Sunday, September 9, 2018

سخت ویراں ہے جہاں تیرے بعد

عبد الخبیر اشرفی مصباحی صدر المدرسین دار العلوم اہل سنت منظراسلام، التفات گنج ،امبیڈکرنگر 

وارث علوم اعلی حضرت ،جانشین مفتی اعظم ہند ،تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی اختر رضاخان علیہ الرحمہ کی شخصیت عالمی شہرت یافتہ تھی،آپ کے دنیاسے پردہ کرلینے سے پورے عالم اسلام کا خسارہ ہواجس کی بھرپائی بہت مشکل ہے،انہوں نے پوری زندگی دین وسنیت اورمذہب ومسلک کی ترویج اشاعت میں صرف کردی۔
حضرت تاج الشریعہ کا تعلق مشہور علمی وروحانی خانوادہ، خانوادئہ رضاسے ہے۔ امام العلماعلامہ رضا علی خان، رئیس المتلمین علامہ نقی علی خان،اعلی حضرت مجدد دین وملت امام احمد رضان خان،مفتی اعظم ہند علامہ مصطفی رضا خان اور حجۃ الاسلام علامہ حامد رضاخان علیہم الرحمہ اسی خانوادہ کے علمی وروحانی سربراہ تھےاوراسی خانوادہ کے گل سرسبد حضرت تاج الشریعہ علیہ الرحمہ ہوئےجو ذکاوت طبع، قوت اتقان اور وسعت مطالعہ میں اپنی مثال آپ تھے۔آپ کا علمی پہلو بہت مضبوط تھا، جن دنوں آپ دار العلوم منظر اسلام میںتعلیم حاصل کررہے تھے ، اردو اخبارات کا عربی میں ترجمہ کرکے مصری عالم مولانا عبد التواب کو دکھایاکرتے تھے اور ان کے ساتھ عربی میںکلام کرتے تھے۔ان ہی کے اشارہ پر آپ کو جامعہ ازہر بھیجاگیا،جامعہ ازہر کی تعلیم نے آپ کو ماہر علوم دینیہ کے ساتھ سہ لسانی صاحب اسلوب ادیب بنادیا۔ علوم دینیہ مثلاتفسیر وحدیث ، فقہ واصول فقہ، افتاوقضااورقرأت وتجوید میں آپ کو یدطولی حاصل تھا۔ چالیس سالوں سے زاید عرصے تک مسند افتانےآپ سے رونق پائی۔علوم عقلیہ مثلامنطق وفلسفہ ،ریاضی وجفراورتکسیر وتوقیت میں بھی آپ نے کمال حاصل کیاتھا۔نثر ونظم دونوں اقسام میں آپ کے علمی آثار موجود ہیں۔
حضرت تاج الشریعہ علیہ الرحمہ سہ لسانی شاعر بھی تھےاور خطیب بھی، ہندوستان ،پاکستان اور بنگلہ دیش میں آپ کا خطاب اردو میں ہوتاتھا، عرب ممالک میں عربی اوریورپین وامریکن ممالک میں انگریزی میں خطاب کرتےتھے۔اردو وعربی زبانوں میں آپ کو ملکہ حاصل تھا ، ان دونوں زبانوں میں آپ کی برجستہ گوئی اس پر شاہدعدل ہے۔آپ کی شاعری میں فصاحت وبلاغت،ندرت خیال اورحسن ترتیب دیکھ کراندازہ ہوتاہے کہ آپ ان زبانوں کے قدیم وجدید اسلوب سے واقف تھے۔
حضرت تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے مریدین تقریباًتمام بر اعظم میں پائے جاتے ہیں۔یورپ وامریکہ کی بہ نسبت ایشائی ممالک میں مریدین کی تعداد زیادہ ہے، مریدین میں ہرقسم کے لوگ شامل ہیں،علماومشایخ، صلحا وصوفیا، شعراوادبا، طلباوریسرچ اسکالرز، پروفیسرولکچررز، قائدین ومفکرین ، مصنّفین ومحققین اورعوام وجہلاسبھی آپ کے دامن کرم سے وابستہ ہیں۔زمرئہ مریدین میںاہل علم ودانش کی شمولیت اور اہل علم وفضل کی آپ سے قربت کی بناپر آپ کے خلفاکی تعداد بھی کثیر ہے۔
حضرت تاج الشریعہ علیہ الرحمہ ایک مضبوط وبے باک دل کے مالک تھے،صداقت وحقانیت پر استحکام کے ساتھ قائم رہتے تھے،کسی لیڈروحکومتی اہل کارسے کبھی خوف نہیں کھاتے تھے، چنانچہ ۱۹۸۴مطابق ۱۴۰۵ھ میں جب آپ نے دوسراحج کیا، سعودی حکومت نے آپ کو قیام گاہ سے گرفتارکرلیا، سی آئی ڈی کے انٹرویومیں آپ نے بلاخوف وخطر اہل سنت وجماعت کے عقائد بیان کئےاور وہابیوں اور قادیانیوں کی تردید کی اور یہ ثابت کردیاکہ بریلوی کوئی فرقہ نہیں ہے، ہمیں بریلوی وہی لوگ کہتے ہیں جسے یہ وہم ہوتاہے کہ بریلوی کوئی نیافرقہ ہے، ہم اہل سنت وجماعت ہیں اوراہل سنت وجماعت کہلواناہی پسند کرتے ہیں۔اسی طرح ۱۹۷۵میں جب ہندوستان میں ایمرجنسی نافذہوئی اور نس بندی کی مہم چلی تو آپ نے اس کے خلاف علمی وعملی تحریک چلائی ۔
یہ غالباً ۱۹۹۴ کی بات تھی جب حضرت تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کو میں نے پہلے باردیکھاتھا، حضرت کی آمد مالیگاؤں مہاراشٹر میں ہوئی تھی، جس گھر میں حضرت کا قیام تھا اس میں اِس کمترین بندہ کابھی آنا جاناتھا،الحمدللہ مسلسل تین روز تک خدمت کا موقع میسر آیاتھا ، واہ!کیا ذات تھی ، سادہ طرز زندگی تھی، حسن اخلاق اور لطف و کرم کے پیکر جمیل تھے،وقت رخصتی دعائیں دیں، سرپہ ہاتھ رکھا ، آج بھی ان نرم گدازہاتھوں کے لمس کا احساس ہورہاہے۔
ان کے جاتے ہی یہ کیاہوگئی گھر کی صورت
نہ وہ دیوار کی صورت ہے نہ درکی صورت

Wednesday, April 11, 2018

شیخ علاء الحق پنڈوی

خلیفہ آئینہ ہند اخی سراج، مرشد مخدوم اشرف کچھوچھوی شیخ عمر علاء الحق پنڈوی -ایک مختصرتعارف
بمناسبت عرس مقدس منعقدہ ۲۱؍تا۲۴؍رجب المرجب ۱۴۳۹ھ
مضمون نگار :عبد الخبیر اشرفی مصباحی
ناشر: اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن -حیدرآباد دکن
پیدائش وجائے پیدائش:
مخدوم العالم شیخ علاء الحق پنڈوی علیہ الرحمہ کی پیدائش سن ۷۰۱ھ مطابق ۱۳۰۲ء میں ہوئی۔آپ کی جائے پیدائش کی تعیین میں مؤرخین کا اختلاف ہے، بعض حضرات نے پنڈوہ اور بعض نے لاہورلکھا ہے۔ راجح یہ ہے کہ آپ کی پیدائش لاہور میں ہوئی، مخدوم سید اشرف جہانگیر کچھوچھوی کے اس قول سے جائے پیدائش کا تعین ہوتاہے’’دار الخلافت جنت آباد عرف گور میں سادات عالیہ رہتے ہیں جو قطب الاولیائے محققین ولُبُّ الاصفیائے مدققین مخدومی مولائی سندی حضرت شیخ علاء الحق قدس اللہ روحہ کے ہمراہ ولایت لاہور وملتان سے آئے تھے۔‘‘[مکتوبات اشرفی،ترجمہ - سیدشاہ ممتاز اشرفی،سید اشرف جہانگیر سمنانی، مکتوب ۳۲، ص:۳۳۸،ناشر دار العلوم اشرفیہ رضویہ اورنگی ٹاون، کراچی پاکستان، سال اشاعت ندارد-]
حسب ونسب:
مخدوم العالم شیخ علاء الحق پنڈوی علیہ الرحمہ کا نسب صحابی رسول حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے ملتاہے۔‘‘ خزینۃ الاصفیا میں ہے کہ:’’معارج الولایت کے مصنف لکھتے ہیں کہ: ’’علاء الدین صحیح النسب قریشی تھے۔ آپ کا نسب نامہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے ملتاہے۔‘‘(خزینۃ الاصفیا، مفتی غلام سرور لاہوری،ج:۲،ص:۲۴۶، مکتبہ نبویہ گنج بخش روڈ، لاہور، سن اشاعت ۲۰۰۱-)آپ کے والد کا نام اصح روایت کے مطابق اسعدتھا۔،اخبار الاخیار، خزینۃ الاصفیااور دیگر معتبر کتابوں میں یہی نام لکھا ہے۔
شیخ عمر علاء الحق پنڈوی کا سیاسی وعلمی مقام:
مخدوم العالم حضرت شیخ عمرعلاء الحق پنڈوی علیہ الرحمہ کا حکومتی امور میں بڑاعمل دخل تھا۔ مؤرخین نے وزرائے حکومت میں آپ کا نام نامی اسم گرامی بھی شامل کیاہے۔آپ کا گھرانہ شاہانِ مملکت کا نور نظر تھا۔ والد گرامی وزیر مالیات اور بیٹا وزیر مملکت تھے۔
آپ علم وفضل میں ایسا کمال رکھتے تھے کہ صاحبان علم وفضل اور اہل جبہ ودستار آپ کے درکی جبہ سائی کرنا اپنی فیروزبختی سمجھتے تھے،آپ اپنے وقت کے سب سے بڑے عالم و فاضل،مفتی و فقیہ، مفسرومحدث، نحوی وصرفی، اورخطیب وداعی تھے۔ اللہ تعالی نے آپ کو علم ظاہری کے ساتھ علم لدنی بھی عطا فرمایا تھا۔ چنانچہ۱۰۱۴ھ میں لکھی گئی کتاب گلزار ابرار میں لکھاہے کہ آپ کو علم لدنی حاصل تھا، چنانچہ شیخ محمد غوثی شطاری ماندوی لکھتے ہیں کہ: ’’علاء الحق، مخدوم العالم، علاء الدین تل بنگالی آپ کا لقب ہے، آپ دونوں جہان کے امام تھے اور درسی ولدنی دونوں علم آپ کو حاصل تھے۔‘‘(اذکار ابرار ترجمہ گلزار ابرار،محمد غوثی شطاری ماندوی ترجمہ فضل احمد جیوری،ص: ۴۰۱، ناشردار النفائس کریم پارک لاہور،سن اشاعت ۷۲۴۱-)
شیخ عمرعلاء الحق پنڈوی علیہ الرحمہ کو اصولی، فقہی اور عربی علوم پر مہارت تامہ حاصل تھی۔ مصنف نزھۃ الخواطر نے لکھاہے کہ:عالم کبیر شیخ عمر بن اسعد لاہوری معروف بہ شیخ علاء الدین پنڈوی فقہ، اصول اور عربی ادب کے علمائے کاملین میں سے تھے، ان کے والدشاہِ بنگال کے وزیر تھے، اس لیے امراء وسلاطین کے نزدیک ان کی بڑی وجاہت اور قدر ومنزلت تھی، ان کی شہرت پوری دنیا میں تھی، وہ درس دیتے اور فائدہ رسانی کرتے تھے، کثیرلوگوں نے ان سے علم حاصل کیا۔‘‘(نزھۃ الخواطر وبھجۃ المسامع و النواظر،عبد الحی لکھنوی، ج:۲،ص:۱۸۱،ناشر دارابن حزم بیروت، لبنان سن اشاعت۱۹۹۹/۱۴۲۰۔)
شیخ عمر علاء الحق پنڈوی علیہ الرحمہ نے خوداپنے علم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی کچھوچھوی سے کہاکہ میں ایک پھل دار درخت ہوں جسے ہلاؤ تو تمہیں علم وحکمت کے پھل ملیں گے،چنانچہ سید وحید اشرف کچھوچھوی لکھتے ہیں کہ:’’آیات قرآنی کی تفسیراور فصوص الحکم اور فتوحات مکیہ کے نکات مجھ سے حاصل کرلو، میں ایک پرُبار درخت ہوں جسے ہلاؤ تو تمھیں عجیب وغریب پھل ملیں گے۔‘‘(حیات مخدوم اشرف سمنانی،سید وحید اشرف، ص:۵۷، ناشرمصنف خود، سن اشاعت۱۹۷۵ء،بحوالہ مکتوبات اشرفی ہفتاد وپنجم -)
طرز زندگی اورلقب گنج نبات:
مخدوم العالم شیخ عمرعلاء الحق پنڈوی علیہ الرحمہ بڑے شاہانہ اندازمیں رہاکرتے تھے اور اپنے آپ کو گنج نبات (مٹھائی کا خزانہ)کہلاتے تھے، اس لقب کو اختیار کرنے کے پیچھے کون سے عوامل کارفرماتھے؟اس سلسلے میں مؤرخین نے الگ الگ وجوہات اور روایات لکھی ہیں: شیخ عبد الرحمن چشتی نے مرآۃ الاسرار میں، مرزا محمد اختر دہلوی نے تذکرئہ اولیائے برصغیر میں اورشیخ وجیہ الدین اشرف لکھنوی نے بحرزخار میں لکھاہے کہ شیخ علاء الحق پنڈوی وفور علم، کثرت اطلاع، زہد وتقوی اور اپنی جاہ ومنزلت و احتشامِ دولت کی وجہ سے اپنے آپ کو گنج نبات کہلاتے تھے، محدث اعظم ہند سید محمد اشرفی کچھوچھوی نے لکھاہے کہ:’’ بعضوں کے خیال میں آپ کو گنج نبات سب سے پہلے آپ کے جلیل القدر خلیفہ حضرت مخدوم سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی نے اظہارِ عقیدت کے طور پر کہا تھاجس کو غیبی قبولیت کا تاج عطاہوا اور آپ کا یہ لقب زبان زد ہو گیا۔ و اللہ تعالیٰ اعلم بحقیقۃ الحال!‘‘(ماہنامہ اشرفی،جلد ۲/شمارہ نمبر۸؛ محرم الحرام۱۳۴۳ ھ /اگست ۱۹۲۴ء-)
بیعت وخلافت:
مخدوم العالم شیخ عمرعلاء الحق پنڈوی علیہ الرحمہ کے علم وعمل، تقویٰ پرہیزگاری اور مقبول بارگاہ الٰہی ہونے کا چرچا چاروں طرف عام ہو چکا تھا۔سینہ کمالِ علم سے اور ذہن جلالِ فضل سے آراستہ تھا۔علماء ومشایخ اورارباب حل وعقد ان کے درکی دربانی،اپنے لیے سرمایۂ افتخار سمجھتے تھے، اہل جبہ ودستاران کی چوکھٹ کی جبیں سائی، اپنی فیروزمندی گردانتے تھے۔ان کی ذات ایسی تھی جن کے سامنے لب کشائی کی کسی میں جرأت نہ تھی۔ وہ ایسی ذات تھی جن کاذکر ہر ایک کیساتھ تھامگر وہ ان میں ممتاز تھے۔وہ سب سے آگے تھے ان سے آگے کوئی نہ تھا۔انہوں نے سب کوپیچھے چھوڑ دیا اورکوئی ان کاپیچھا نہ کر سکا۔وہ سب سے منفرد، ہر فہرست میں سرفہرست، کسی فہرست میں مؤخر نہیں تھے۔ان کی ذات میں زمانے کی ساری عظمتیں جمع تھیں۔
وہ زاہدوں، مرتاضوں اور عابدوں کے رہنما و قائد تھے، حکمراں وتخت نشینوں کے امیر تھے، لیکن ان کی قیادت ورہنمائی علماء جیسی تھی، ان کا عدل وانصاف قاضیوں جیسا تھا اور ان کا یقین و ایقان عارفین باللہ جیسا تھا۔
وہ سمجھ دار عالم،صائب راے فقیہ اور صاحب بصیرت مدبرتھے، ان کاعلم حکومت کی وجہ سے بے کار نہیں ہوا،ان کا تفقہ اقتدار کی وجہ سے ڈگمگایا نہیں، اوران کے فیصلوں نے اپنے متبعین کی رضا مندی کی خاطرکسی پر ظلم نہیں کیا۔
وہ ہمہ جہت ذات تھی، ہرخوبی ان میںموجود تھی، بتقاضۂ بشریت اگر ان میں کوئی نقص تلاش کیاجاتا تو ان کاجلال اوران کی نازواداکے علاوہ کچھ نہ ملتا، رحمت خدا ان کی اس نازواداکو بھی تبدیل کرنا چاہتی تھی،انھیں رنگ تصوف میں دیکھنا پسند کرتی تھی،چنانچہ اللہ کریم کی رحمت ان پر نازل ہوئی کہ سلطان المشایخ سید محمد نظام الدین اولیا نے آئینۂ ہندوستان اخی سراج الدین عثمان کوان کے پاس مرشد کی حیثیت سے بھیج دیا، یہیں سے ان کی حیات میں انقلاب آگیا اور بیعت وخلافت کے بعدان کے رنگ جلال میں جمال گیا، علم باطن وتصوف، آداب طریقت وسلوک اور منازل ہجر ووصال کی جانب توجہ بڑھ گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ سرخیل مشایخ ہوگئے، شیخ العالم بن گئے۔ سلطان المرشدین، مخدوم العالم، گنج نبات جیسے القابات سے نوازے جانے لگے۔
شیخ کی خدمت:
خزینۃ الاصفیا میں ہے کہ:’’جن دنوں شیخ عمرعلاء الحق حضرت شیخ سراج الدین اخی قدس سرہ کی خدمت میں سرفراز ہوئے اور دنیاوی خواہشات اور مال ومنال سے دست برداری کا اعلان کیا، تووہ اپنے پیر ومرشد کے سفر میں ہم سفر رہتے، درویشوں کے لیے طعام پکاکر ساتھ ہوتا، یہ گرم گرم دیگچہ حضرت شیخ علاء الحق سرپر رکھ لیتے اور حضرت کے ساتھ ساتھ چلتے، اس دیگچے کی گرمی سے آپ کے سرکے بال جھڑگئے تھے، حضرت شیخ اخی سراج اکثراوقات ان مقامات سے بھی گذرتے جہاں شیخ علاء الحق کے رشتہ داربڑی شاہانہ زندگی بسرکرتے تھے، لیکن آپ ننگے پاؤں اپنے شیخ کی سواری کے ساتھ ساتھ چلتے، مگر اپنے بھائیوں اور رشتہ داروں کو اس شان وشوکت میں دیکھ کر حضرت علاء الحق پر کوئی دنیاوی تأثر نہ ہوتااور آپ خوش خوش یہ خدمت سرانجام دیتے ریتے۔‘‘۔(خزینۃ الاصفیا،مفتی غلام سرور لاہوری، ج:۲،ص:۲۴۷، مکتبہ نبویہ گنج بخش روڈ لاہور، سن اشاعت ۲۰۰۱-)
صرف اتناہی نہیں کہ حضرت شیخ پنڈوی علیہ الرحمہ نے اپنے پیر ومرشد علیہ الرحمہ کے خورد ونوش کا انتظام سنبھالا، بلکہ آپ نے قلی گیری کے ساتھ ساتھ کہاروں جیساکام بھی انجام دیا۔ اپنے پیر ومرشد کی پالکی کے دائیں ہاتھ کا ڈندا اکثر آپ کے کاندھے پر ہوتاتھا اور آپ اسی حالت میں اپنے خاندان وسسرال والوں کے محلوں کے قریب سے بارہاگذراکرتے تھے، لیکن آپ کی پیشانی پر کوئی بل نہیں آتاتھا۔ لطائف اشرفی میں ہے کہ:’’شیخ سراج الحق قدس سرہ حضرت مخدومی کی نسبت کمال درجہ لطف ومہربانی فرمایا کرتے تھے، لیکن ان سے خدمت اس حد تک لیتے تھے کہ اکثر اوقات حضرت سراج الحق پالکی میں سوار ہوجاتے اور سیر کو نکل جاتے۔ حضرت مخدومی پالکی کا سیدھا ہاتھ کا ڈنڈا اپنے کاندھے پر رکھ کر دور تک پالکی لے جاتے تھے۔‘‘۔(لطائف اشرفی، لطیفہ ششم،حضرت نظام یمنی، ترجمۂ حضرت علامہ شمس بریلوی،ج:۱،ص:۲۵۱،ناشرشیخ محمد ہاشم اشرفی پاکستان، سن اشاعت ندارد-)
سخاوت وفیاضی اورپنڈوہ شریف سے جلاوطنی:
مخدوم العالم شیخ عمرعلاء الحق پنڈوی علیہ الرحمہ کی سخاوت وفیاضی اور بخشش وکرم عام تھی، ہرخطہ میں اس کی شہرت تھی، رفتہ رفتہ اس کی شہرت دربار سلطانی تک پہنچی، خبر سنتے ہی بادشاہ وقت کوحیرانی ہوئی، اس نے اس بے پناہ سخاوت وفیاضی کو اپنی سلطنت وحکومت کے لیے بہتر نہیں سمجھا، حواس باختہ ہوکرآپ کو پنڈوہ شریف چھوڑ دینے کا حکم صادر کردیا،چنانچہ مرزا محمد اختر دہلوی لکھتے ہیں کہ:’’آپ کی خانقاہ میں بہت خرچ تھا، ہزاروں آدمی، خادم ومسافر آتے اور رہتے تھے، سب کو کھانا ملتاتھا، اورجو کچھ جو مانگتا آپ اس کو عطاکرتے، جب یہ خبر بادشاہ کو ہوئی اس کو رشک ہوا، وزراسے کہاکہ: میراخزانہ اس کے خرچ کے آگے ناچیزہے ایسے شخص کاکہ جو اس قدر خرچ کرتاہے اپنے شہر میں رکھنا مصلحت نہیں، آخر حضرت بحکمِ شاہ وہاں سے اٹھ کر سنارگاؤں میں سکونت پذیرہوئے اور خادم کو حکم کیاکہ آج سے دوناخرچ کیاجائے کہ خارچشمِ حاسدوں میں بہتر ہے۔‘‘۔(تذکرۂ اولیائے بر صغیرمعروف بہ تذکرۂ اولیائے ہندوپاکستان،مرزا محمد اختر دہلوی، جلد اول، ص:۱۹۵، ناشر ملک اینڈ کمپنی لاہور، سن اشاعت ندارد-)
تبلیغ واشاعت دین:
مخدوم العالم شیخ علاء الحق پنڈوی علیہ الرحمہ کی ولایت پر علماء ومشائخ کا اجماع ہے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی دین حق کی تبلیغ و اشاعت میں گزاردی۔ سلسلۂ چشتیہ کی تعلیمات سے آپ کے ذریعہ کثیر تعداد میں لوگوں نے ہدایت پائی۔ حق سے غافل ہزاروں نے قبول اسلام کیا۔ علماء و فضلاء کی ایک بڑی جماعت نے آپ سے اکتساب فیض کیا۔ ہزاروں نے اپنی گناہ سے ملوث زندگیوں میں تبدیلیاں پیداکیں اور نیکی و پارسائی کی طرف راغب ہوئے۔ آپ کے عمل اور طرز تربیت سے،گنواروں کو تہذیب، ناعقلوں کو عقل،بے علموں کو علم، گناہ گاروں کو رغبت نیکی، تاریک عملوں کو شوق عمل اور بد کرداروں کوحسن اخلاق کی دولت نصیب ہوئی-گمراہ شخص ہدایت یافتہ ہوگیا،کامل اکمل بن گئے،ادنی اعلی ہوگئے اور اعلی بلندی کی آخری منزل کی طرف گامزن ہوئے۔
وصال وجانشینی:
حضرت مخدوم شیخ علاء الحق پنڈوی کاوصال بمطابق قول مشہور ۸۰۰ھ/۱۳۹۸ء و بمطابق قول محقق۷۸۰ھ/۸۷۳۱ء میں ہوا۔ مزار پاک پنڈوہ شریف ضلع مالدہ، مغربی بنگال میں زیارت گاہ عام ہے، ۲۲تا۴۲رجب المرجب عرس کے مراسم ادا کئے جاتے ہیں۔ آپ کے وصال کے بعد آپ کے خلیفہ غوث العالم، محبوب یزدانی سید اشرف جہانگیر سمنانی کچھوچھوی اور صاحب زادہ و جانشیں شیخ احمد نورالحق والدین معروف بہ نورقطب عالم علیہما الرحمہ نے آپ کے مشن کو آگے بڑھایا۔
ترسیل مضمون:
اشرفیہ اسلامک فاونڈیشن
حیدرآباد دکن

Wednesday, January 17, 2018

مخدوم العالم شیخ عمر علاء الحق لاہوری ثم پنڈوی بنگالی علیہ الرحمہ کی حیات و خدمات پر پہلی تحقیقی کتاب لکھنے کی اللہ عزوجل نے توفیق عطا فرمائی ۔ ماہ رجب المرجب کی ۲۲ تاریخ ۱۴۳۸ ھ کو حضرت مخدوم العالم کے عرس کے موقع پر پنڈوہ شریف مالدہ میں رسم اجراء عمل میں آیا

Wednesday, October 4, 2017

فلسفۂ قربانی

قربانی ہر مذہب ودھرم کا حصہ ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں بھی مروج تھی اور آج بھی ہے۔قرآن کریم ہے ’’وَلِکُلِّ أُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکاً‘‘ہر امت کے لیے ہم نے قربانی مقرر کر دی ہے(سورہ حج:۳۴)اسلام کے علاوہ مذاہب میں قربانی کا مقصد صرف یہ ہے کہ بندہ قربانی دےکر آفات وبلیات سے محفوظ رہ سکے، یہ قربانی غیر مقبول ہے ،مقبول قربانی وہی ہے جوخالص اللہ عزوجل کے لیے ہو:اسی آیت میں ہے:’’لِیَذْکُرُو اسْمَ اللّٰہِ عَلیٰ مَا رَزَقَہُمْ مِّنْ بَہِیْمَۃِ الْأَنْعَامِ‘‘۔اس آیت میں جہاں قربانی کرنے والوں کے لیے بشارت ہے وہیں نہ کرنے والوں کے لیے بھی درس عبرت ہے ۔ اللہ فرماتاہے:’’ فاِلٰہُکُمْ إِلٰـہٌ وَّاحِدٌ فَلَہٗ أَسْلِمُوْا وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَ‘‘ حضرت ابراہیم وحضرت اسماعیل علیہما السلام کی قربانی سے اسلامی قربانی کامقصد وفلسفہ دنیا کے سامنے بخوبی عیاں ہوگیاکہ بندہ مال ودولت کے مقابل اللہ عزوجل کی محبت واطاعت کو غالب کرے۔یعنی قربانی کرنے والے کے دل میں مال واولاد اور زمین وزن سے زیادہ اللہ عزوجل کی محبت رچی بسی ہو۔
قرآن کریم میںہے:’’لَنْ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوْمُہَا وَلَا دِمَآؤُہَا وَلٰکِنْ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنْکُمْ ‘‘(سورہ حج:۳۷) ہمیں جانوروں کے گوشت وخون مطلوب نہیں ،ہمیں اپنے بندوں سے تقوی وپرہیزگاری مطلوب ہے۔اس عظیم مقصد کو حاصل کرنے کے لیے قربانی کرنے والےکی نیت خالص ہونی چاہیےورنہ اس کااثر اس کی قربانی کے ساتھ ساتھ اجتماعی قربانی کی صورت میں دوسرے کی قربانی پربھی پڑے گا۔
قربانی کے جانورکی نوعیت، اس کی عمرکی حدبندی، اسکے عیوب ونقائص سے بری ہونے کی پابندی، اپنے ہاتھ سے قربانی کااستحباب ، اوقات قربانی میں اولیت کی ترجیح وغیرہامسائل میں اسلامی قربانی کا بیش بہافلسفہ پوشیدہ ہےجو بندے کوبہ طریقِ تَقَرُّب قربانی کرنے کی ترغیب دیتاہے۔

عبد الخبیر اشرفی مصباحی
مدرسہ منظر اسلام التفات گنج امبیڈکر نگر
8400112216
مؤرخہ 18 ذوالحجہ 1438

مخدوم سید اشرف جہانگیرسمنانی کچھوچھوی -ایک مختصرتعارف

تحریر:- بشارت علی صدیقی حیدرآبادی، حال مقیم جدہ ،حجاز مقدس
ترتیب وپیش کش مع حذف واضافہ:- عبد الخبیر اشرفی مصباحی ، دار العلوم منظر اسلام التفات گنج امبیڈکر نگر پو۔پی۔


نام ونسب : آپ کااسم گرامی سید اشرف ابن سلطان سید محمد ابراہیم نور بخشی ابن سلطان سید عماد الدین شاہ نور بخشی سمنانی ہے-سلسلہ نسب 25 واسطوں سے سید اسماعیل اعرج رضی اللہ عنہ کے ذریعے رسول اللہﷺتک پہنچتا ہے۔
والدہ ماجدہ حضرت بی بی خدیجہ، اولاد شیخ احمد یسوی سے تھیں،ان کانسب بی بی نصیبہ ہمشیرہ غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔جو حضرت شیخ احمد یسوی (486 -562ھ ؍1093-1166ء )کے خاندان سے تھیں۔
القاب وآداب: ’’غوث العالم ‘‘منصب غوثیت پر770ھ؍1369ء بمقام گلبرگہ شریف، دکن میں فائزہوئے۔’’محبوب ربانی‘‘ کاخطاب:782ھ؍1381ء بمقام روح آباد کچھوچھہ شریف ملا۔’’جہاں گیر‘‘ یہ لقب پنڈوہ شریف میں تکمیل تعلیم معرفت وسلوک کے بعد ، مخدوم العالم شیخ عمرعلاء الحق پنڈوی کی طرف سے عطاہوا۔دیگر القابات میں’’اوحد الدین‘‘ اور ’’محبوب یزدانی‘‘ معروف ہیں۔
ولادت باسعادت: 708ھ؍1309ء - دوسرے قول کے مطابق 712ھ؍1313ء کوہوئی۔
تکمیل تعلیم وتخت نشینی: حفظ قرآن و قراء ت عشرہ کی تکمیل سے نہایت قلیل عمر- بعمر 7سال یعنی  715ھ؍1315ء کو فارغ ہوگئے-
اورجملہ مروجہ علوم و فنون کی تکمیل سے بعمر 14سال یعنی  722ھ؍1322ء کو فارغ ہوئے-تکمیل تعلیم کے بعد:723ھ کوسمنان کے تخت نشیں بنائے گئے؛ مدت سلطنت 10سال رہی، بعمر 25سال سلطنت سے دست بردار ہوگئے-
بیعت وخلافت: سلطنت سمنان سے دست برادری کے بعد ، حضرت خضر علیہ السلام کی رہنمائی میں عازم ہندوستان ہوئے۔یہاں مخدوم العالم شیخ عمر علاء الحق والدین گنج نبات لاہوری ثم پنڈوی بنگالی ان کاانتظارکررہے تھے۔سمنان سے پنڈوہ شریف بنگال ہندوستان کا سفر 2 سال میں مکمل ہوا۔اس سفر کے دوران حضرت مخدوم سید جلال الدین بخاری جہانیاں جہاں گشت علیہ الرحمہ سے مقام اوچ میں ملاقات ہوئی ۔ وہاں چند ایام آپ نے قیام فرمایاپھرانھوں نے بے شمار فیوض وبرکات سے نوازتے ہوئے جلد ازجلد پنڈوہ شریف پہنچنے کی وصیت فرمائی۔اوچ سے براہ دہلی پنڈوہ شریف پہنچے،یہاں بدست حضرت مخدوم العالم شیخ عمر علاء الحق والدین چشتی گنج نبات لاہوری ثم پنڈوی مرید ہوئے ۔ساتھ ہی ساتھ خلافت سے بھی نواز دئے گئے،یہ 735ھ؍1335ء کا واقعہ تھا۔
پہلا قیام پنڈوہ شریف: پنڈوہ شریف میں پہلا قیام735ھ-741ھ مطابق1335-1341ء ؛ 6سال رہا،-742ھ؍1342ء کو پنڈوہ شریف سے جون پور کے لیے روانہ ہوئے۔
جون پور میں پہلی بار آمداور بلاد شرقیہ کا سفر: حضرت مخدوم سید اشرف جہاں گیرسمنانی کچھوچھوی علیہ الرحمہ کو اپنے پیر ومرشد کی طرف سے جون پور کی ولایت سپرد ہوئی تھی,742ھ؍1342ء کوسلطنت تغلقیہ کے عہد میں آپ پنڈوہ شریف سے جون پور کے لیے روانہ ہوئے۔ یہاں کچھ عرصہ قیام کرنے کے بعد بلاد شرقیہ و ممالک اسلامیہ کی سیر فرمائی۔ جزیرۃ العرب، مصر، شام، عراق، اور ترکستان کے مختلف علاقوں اور شہروں کا سفر فرمایا اور وہاں کے مشہور علما، مشائخین اور اولیا اللہ سے ملاقاتیں کیں اور فیوض و برکات حاصل کیے۔ 
اسی سفر کے دوران 750ھ؍1350ء میں غوث العالم کے مشہور مرید و خلیفہ اور لطائف اشرفی کے مرتب و جامع حضرت حاجی نظام یمنی داخل سلسلہ ہوئے اور آخری دم تک حضرت مخدوم سید اشرف سمنانی کچھوچھوی کے سفر و حضر میں ساتھ رہے۔بلاد شرقیہ کے سفرسے 758ھ؍1357ء کوہندوستان میںواپسی ہوئی،ان ممالک شرقیہ کی پہلی سیاحت کا زمانہ 15 سال قیاس کیا گیا ہے۔
دوسراقیام پنڈوہ وسفرحرمین طیبین: بلاد شرقیہ کی واپسی کے بعد حضرت مخدوم سید اشرف جہاں گیرسمنانی کچھوچھوی علیہ الرحمہ نے دوسری بار سفرِ پنڈوہ شریف اختیار فرمایا اور چار سال تک اپنے پیر و مرشد کے فیوض و برکات حاصل کرتے رہے، پنڈوہ شریف سے واپسی کے بعد حرمین شریفین کی زیارت کا دوبارہ قصد کیا۔ اسی سفر میں آپ اپنی خالہ زاد بہن سے ملاقات کے لیے جیلان تشریف لے گئے اور اپنے بھانجے نورالعین حضرت سید عبدالرزاق جیلانی ابن حضرت سید عبدالغفور جیلانی کو اپنی فرزندگی میں قبول فرمایا۔ یہ 764ھ؍1363-1364ء کا واقعہ ہے۔حرمین شریفین اورممالک شرقیہ کی یہ دوسری سیاحت غالباً 10 سال رہی ہو گی۔768ھ؍1367ء کو حضرت مخدوم سید اشرف جہاں گیرسمنانی کچھوچھوی علیہ الرحمہ دوبارہ ہندوستان واپس تشریف لائے۔
حرمین شریفین اور بلاد شرقیہ سے واپسی کے بعد حضرت مخدوم سید اشرف جہاں گیرسمنانی کچھوچھوی علیہ الرحمہ نے مختلف مقامات ہند کاسفر فرمایا اور اسلام کی خوب نشرواشاعت فرمائی، متعدد بزرگان دین سے آپ نے اکتساب فیض کیا اور کثیر مخلوق نے آپ سے برکت پائی ۔جن میں علماومشایخ کا ایک بہت بڑاطبقہ بھی شامل ہے۔
حضرت مخدوم جہاں کی نمازجنازہ کی امامت اور پنڈوہ شریف کا تیسراسفر: سال 782ھ؍1381ء کوحضرت مخدوم سید اشرف جہاں گیرسمنانی کچھوچھوی علیہ الرحمہ کو بمقام روح آباد کچھوچھہ شریف محبوب ربانی کا خطاب ہوااور اسی سال آپ نے تیسری بار اپنے پیر و مرشد کی نیاز حاصل کرنے کی غرض سے پنڈوہ شریف کا سفر کیا۔ جب آپ قصبہ منیر شریف پہنچے تو مخدوم جہاںحضرت شیخ شرف الدین یحییٰ منیری کا وصال ہو چکا تھا۔ حضرت مخدوم سید اشرف جہاں گیرسمنانی کچھوچھوی علیہ الرحمہ نے،حضرت مخدوم جہاں کی وصیت کے مطابق نماز جنازہ پڑھائی اور حضرت شیخ کے فیوض روحانی سے مالا مال ہو کر پنڈوہ شریف کی جانب تشریف لے گئے۔اس بار پنڈوہ شریف میں قیام کی مدت کتنے سال رہی؟ اس کا اندازہ لگاپانا مشکل ہے۔
پنڈوہ شریف میں آخری بار حاضری: مخدوم سید اشرف جہاں گیرسمنانی کچھوچھوی ،اپنے پیر و مرشدمخدوم العالم حضرت شیخ عمرعلاء الحق والدین چشتی گنج نبات کے وصال کے بعدبوقت جانشینی پیر زادہ حضرت شیخ احمد معروف بہ نور قطب عالم پنڈوی علیہما الرحمہ پنڈوہ شریف تشریف لے گئے اور 801ھ-803ھ؍1399-1401ء کے دوران آپ نے وہاں قیام فرمایا- اس قیام کے دوران ایک عجیب وغریب کرامت آپ کی ذات سے یہ صادر ہوئی کہ آپ نے اپنے پیرزادہ کوکہاکہ: پہاڑکو اپنے جگہ سے جنبش کرنے کہئے!آپ کاجملہ ابھی پورابھی نہیں ہواتھاکہ پہاڑ نے جنبش کرنا شروع کردیا۔
جونپور میں دوسری بار آمد: حضرت مخدوم سید اشرف جہاںگیر سمنانی کچھوچھوی علیہ الرحمہ نے جب دوسری بار جون پور قدم رنجا فرمایا ، اس وقت جون پورمیںسلطان ابراہیم شرقی کی حکومت تھی۔یہ غالباً :805-804ھ؍1402-1403ء کی بات تھی۔ سلطان ابراہیم شرقی بڑاسچادین داروپابند شریعت بادشاہ تھا، اس کے عہد میں تمام عدالتیں شرعی طریق کارکی پابند تھیں، تمام سلطنت میں جگہ جگہ قاضی مقرر تھے ہرعلاقے اور شہر کا قاضی دار الحکومت جون پورکے قاضی القضاۃ کے ماتحت ہوتاتھا، سلطان ابراہیم کے ممتاز ومعتمد علیہ قاضیوں میں قاضی شہاب الدین دولت آبادی کا شمارہوتاتھا۔قاضی شہاب الدین دولت آبادی حضرت مخدوم سید اشرف جہاں گیرسمنانی کچھوچھوی علیہ الرحمہ کے بڑے معتقد اورخلیفہ تھے۔لاینحل مسائل میں وہ حضرت مخدوم کی طرف رجوع کرتے تھے۔
مخدوم سید اشرف جہاں گیرسمنانی کچھوچھوی علیہ الرحمہ نے اندرون ملک جون پور، ظفرآباد، محمدآباد گہنہ،کرمینی، بھڈوڈ، اجودھیا، سدھور، جائس، لکھنو،کنتور، رودولی،بہارشریف، گل برگہ،دہلی، اجمیر، پاک پٹن ، سرندیپ اور گجرات وغیرہابے شمار جگہوں کا تبلیغی دورہ فرمایا۔ آپ تبلیغ کے لیے جہاں بھی جاتے وہاں نہ صرف مسلموں کو بلکہ غیر مسلموں کو بھی اپنا گرویدہ بنالیتے تھے ۔آپ نے ہزاروں غیر مسلموں کو مشرف بااسلام کیاتھا۔
805ھ مطابق1403ء کو جون پور سے واپسی کے بعد آپ کچھوچھہ مقدسہ ہی میں رہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو سوسال سے زائد عمر عطافرمائی تھی۔ عمر کابیشترحصہ آپ نے اسلام کی نشرواشاعت کے لیے پوری دنیاکاسفرکرتے ہوئے گذار دیا۔
تعمیر آستانہ اشرفیہ: حضرت مخدوم سید اشرف جہاں گیرسمنانی کچھوچھوی علیہ الرحمہ کو ان کے پیر ومرشد نے ان کی آخری آرام گاہ کی زیارت بکشف کرادی تھی ، جہاںحضرت مخدوم علیہ الرحمہ نے سال793ھ؍1391ء کو نہایت عالی شان خانقاہ وآستانہ تعمیر کرائی، اس آستانہ مبارک کا مادہ تاریخ’’ عرش اکبر‘‘ ہے۔
سال وصال:28 محرم الحرام، 808ھ؍1405ء 1406ء بمقام روح آباد، کچھوچھہ مقدسہ۔ بعض روایتوں میں تاریخ وصال محرم الحرام 825ھ؍1421-1422ء بتائی گئی ہے۔
بعض محققین کے مطابق حضرت مخدوم اشرف جہاں گیرسمنانی کچھوچھوی کی ولادت 712ھ؍1313ء میں ہوئی، آپ نے 120 سال عمر پائی اور 832ھ؍1429ء میں وصال فرمایا۔ اور یہی راجح بھی ہے۔
حضرت مخدوم آفاق عبدالرزاق نورالعین جیلانی اشرفی کچھوچھوی-(750 -869ھ؍1350-1465ء یا752- 872ھ ؍1352 -1468ء )حضرت مخدوم سید اشرف جہاں گیرسمنانی کچھوچھوی علیہ الرحمہ کے جانشیں ہیں۔
خلافتیں: حضرت مخدوم سید اشرف جہاں گیرسمنانی کچھوچھوی علیہ الرحمہ کو درج ذیل سلاسل میں خلافت واجازت حاصل تھی:
(۱) سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ سراجیہ:شیخ علاء الحق والدین گنج نبات پنڈوی-(۲)سلسلہ عالیہ قادریہ جیلانیہ: حضرت سید عبدالغفور حسن جیلانی (والد گرامی، حضرت نورالعین)-(۳)سلسلہ عالیہ قادریہ جیلانیہ بخاریہ:مخدوم جہانیاں جہاںگشت سید جلال الدین بخاری قادری-(۴)سلسلہ عالیہ قادریہ سہروردیہ جلالیہ:مخدوم جہانیاں جہاں گشت-(۵)سلسلہ عالیہ حسنیہ حسینیہ:مخدوم جہانیاں جہاں گشت-(۶)سلسلہ کبرویہ:حضرت شیخ علاء الدولہ سمنانی اور مخدوم جہاں شیخ شرف الدین یحییٰ منیری-(۷)سلسلہ زاہدیہ:حضرت خواجہ بدرالدین بدر عالم زاہدی-(۸)سلسلہ شطاریہ:حضرت حاجی محمد بن عارف القادری-(۹)سلسلہ نقشبندیہ:حضرت خواجہ سید بہاء الدین نقشبند-(۱۰)سلسلہ مداریہ:حضرت خواجہ سید بدیع الدین زندہ شاہ مدار،مکن پور-(۱۱)سلسلہ تابعیہ خضریہ:حضرت خضر علیہ السلام-(۱۲)سلسلہ تابعیہ رضائیہ:حضرت شیخ ابوالرضا حاجی بابا رتن ہندی۔نیز حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت قدس سرہ نے اپنی تمام خلافتیں عطا فرمائی تھیں۔
علمی آثار: حضرت مخدوم سید اشرف جہاںگیر سمنانی کچھوچھوی علیہ الرحمہ کثیرالتصانیف بزرگ تھے: چند مشہور کتابوں کے نام درج ذیل ہیں:
(۱) ترجمہ قرآن بزبان فارسی(727ھ؍1327ء : قرآن پاک کا پہلا فارسی ترجمہ،جو خود مخدوم اشرف کا لکھا ہوا آج بھی کچھوچھہ شریف میں مختار اشرف لائبریری میں موجود ہے، اسی فارسی ترجمے کا اردو ترجمہ علامہ مولانا سید مختار اشرفی نے کراچی سے اظہار البیان کے نام سے شائع کیا۔
(۲) رسالہ تصوف و اخلاق:اردو زبان و نثر میں پہلی کتاب ہے۔ اس سے قبل کوئی کتاب اردو نثر میں نہیں لکھی گئی تھی۔ اسے سب سے پہلے میر نذر علی دردؔ کاکوروی نے دریافت کیا، یہ تحقیقی مقالہ بعنوان شمالی ہند اور اُردو سالنامہ یادگار رضا 1934ء میں شائع ہوا۔ پروفیسر حامد حسن قادری نے اپنی معرکۃ الآرا کتاب:’’داستان تاریخ نثر اردو‘‘ میں اسے پورے طور پر سراہاہے-
(۳) رسالہ حجۃ الذاکرین-(۴)بشارۃ المریدین و رسالہ قبریہ-(۵)تحقیقات عشق-(۶)رسالہ غوثیہ-(۷)رسالہ مناقب اصحاب کاملین و مراتب خلفا راشدین(۸)ارشاد الاخوان(۹)ارشاد الاخوان(۱۰)فواید الاشرف(۱۱)اشرف الفوائد (۱۲)رسالہ بحث وحدت الوجود(۱۳)مکتوبات اشرفی:اس کے پہلے جامع حضرت نظام یمنی ہیں جنہوں نے 787ھ؍1386ء میں جمع کیا تھا، پھر حضرت سید عبدالرزاق نورالعین نے مزید مکتوبات کو شامل کرتے ہوئے 869ھ؍1465ء میں مکتوبات کو جمع فرمایا۔ مکتوبات اشرفی کو مولانا مفتی سیدممتاز اشرفی، کراچی نے دو جلدوں میں شائع فرمایا، جس میں پہلی جلد میں مقدمہ کے ساتھ 42 مکتوبات ہیں اور دوسری جلد میں 31 مکتوبات ہیں، مکتوبات کی کل تعداد 74 ہے۔
صفحات کی تنگی دامن گیر ہیں اس لیے ساری کتابوں کے نام اور ان کاتعارف یہاں پیش نہیں کیاجاسکتا۔

Monday, December 21, 2015

میں مدیحہ فاطمہ

میرے بھائی دانیال کی طرح میرا نام بھی پیر طریقت سید جلال الدین اشرف اشرفی جیلانی نے رکھا ہے۔ میرے والد کی میں اکلوتی اور پہلی اولاد ہوں ، ان کا پیار اور ان کی محبت مجھے بے چین کرتی ہے ، میری تعلیم کے لیے وہ بہت پریشان رہتے ہیں ، اس لیے انھوں نے مجھے میری بڑی خالہ کے گھر رکھ چھوڑا ہے تاکہ اچھا پڑھوں نیک نام بنوں جب وہ گھر آتے ہیں ان کی آمد کی خوشی میں میں پہلے چلی آتی ہوں اپنے اختیار سے نہیں ان کے بلانے سے ۔ میں UKG پڑھ چکی ہوں میرا داخلہ اب کلا ایک میں ہوگا، میرا اسکول رام گنج میں ہے، نام ہے ہولی چلڈرن اکادمی۔


مدیحہ فاطمہ ، ابو کے قلم سے
مؤرخہ ۲۲ دسمبر ۲۰۱۵

Sunday, May 19, 2013

Aniisul Goraba

یہ حضرت شیخ نور قطب عالم پنڈوی بنگالی علیہ الرحمہ کی فارسی زبان میں لکھی گئ ایک نایاب کتاب ہے فقیر عبد الخبیر اشرفی مصباحی نے اس کاترجمہ وتخریج کیا ہے عرس مخدوم العالم ومخدوم اشرف مشن کے سالانہ جلسہ کے موقع پر ۲۰۱۳ ء کو اس رسم اجرا عمل میں آیئگا انشاء اللہ تعالی۔ اس سال عرس پاک جون کی ۳ تاریخ کو منعقد ہوگا۔