Wednesday, May 20, 2020

رمضان کا آخری عشرہ،شب قدر اور رسول اللہﷺ کےمعمولات

 از قلم:عبد الخبیر اشرفی مصباحی،صدر المدرسین دار العلوم عربیہ اہل سنت منظر،التفات گنج،امبیڈکرنگر

     وہی خداہے جوپالنہارہے،مختار ہے،سب کا خالق وہی ہے، سب کامالک وہی ہے۔ اگروہ کسی کو کچھ نہ دیتاتو کسی کے پاس کچھ نہ ہوتا۔ اس نے جوچاہاجسے چاہا،دیا- عالم کوعلم دیا،جاہل محروم رہ گیا- امیرکو توانگری دی اور فقیرنےگداگری لے لی-اس نے جس کوچاہا رسول بنا دیا اورجس کو چاہا امتی کردیا’’اَللہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہ‘‘اللہ خوب جانتا ہے کہ رسالت کا حق دارکون ہے اور امتی ہونے کا مستحق کون ہے-حکومت وبادشاہت اسی کی عطاہے ،عزت وآبروبھی اسی کی بخشش ہے-ایک رات جوسورج کی روشنی سے بالکل محروم تھی،چاند کی چاندنی بھی نام کی میسرتھی، وہ تاریک تھی،بے نورتھی، قرآن کریم نے اس کا نام’’قدر‘‘ رکھ دیا،اسی کے نام پر ایک سورہ کانام رکھ دیا،ذرہ کو آفتاب بنادیا، قدروتعظیم اس کی اصل میں شامل کردیا،اس تعظیم وتکریم کوجلالت وعظمت کاتاج اس وقت پہنایا گیا جب’’خَیۡرٌ مِّنْ اَلْفِ شَہۡرٍ‘‘کَہ کراسےہزارمہینوں سے بہتر قراردے دیا گیا۔وہ قدروالی ہوگئی،اس کی قدرشناسی کرنے والے قدرداں ہوگئے اور محبوب بارگاہ رحمان ہوگئے۔
نسبتیں انسان کو ممتازکرتی ہیں،شب قدرکی نسبت جسے ملتی ہے ،وہ بھی ممتازہوتاہے،دل ایمان واخلاص سے بھرا ہو، جبین لذت سجدہ سےآشنا ہو، شب قدرکی برکتیں نصیب ہو،عبادتوں اورریاضتوں کی سوغات لیے رب تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضرہوتورب تعالیٰ ایسے بندوں کےگناہ معاف کردیتاہے۔نسبت شب قدر کی باعث بارگاہِ الٰہی میں ان کی عبادتوں کی قدرکی جاتی ہے۔[دیکھئے:صحیح بخاری،امام ابو عبد اللہ محمدبن اسماعیل بخاری،باب من صام رمضان ایمانا واحتساباونیۃ،حدیث نمبر:1802،دارابن کثیر،یمامہ،بیروت،بارسوم،سال اشاعت،1407ھ]
جب قدر کی رات آنے والی ہوتی،ہمارے آقا نبی کریم ﷺکی جولانیت بڑھ جاتی،نئی امنگ ،نیاجوش پیدا ہوجاتا، معمولات شب وروز،دیگر ایام کے مقابلہ میں بڑھ جایاکرتے۔ہماری ماں رسول کریم ﷺکی محبوبہ سیدتناعائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:’’كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا دخل العشر شد مئزره‘‘۔رمضان کا آخری عشرہ آتا تورسول اللہﷺ [عبادت کے لیے]کمربستہ ہوجاتے[بخاری، مرجع سابق،باب العمل فی العشر الآواخر من شہر رمضان،حدیث نمبر1920؛مسلم شریف،ابو الحسین مسلم بن حجاج قشیری، الاعتکاف باب الاجتہاد في العشر الآواخر من شہر رمضان،حدیث نمبر 1174،داراحیاء التراث العربی،بیروت ]
ایک دوسری روایت میں فرماتی ہیں:’’ ان رسول الله صلى الله عليه و سلم يجتهد في العشر الأواخر ما لا يجتهد في غيره ‘‘رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں وہ مجاہدہ اورمحنت کرتے جو دوسرے دنوں میں نہیں کرتے تھے۔[مسلم،مرجع سابق،باب الاجتہاد فی العشر الآواخرمن شہر رمضان،حدیث نمبر1175] 
رسول اللہﷺ رات میں کتنی دیر سوتےتھے؟کم وبیش آدھی رات۔ نمازیں کتنی پڑھتےتھے؟چھ نمازیں ان پرفرض تھیں،نوافل کاعالم یہ تھاکہ حالت قیام میں پاؤں متورم ہوجاتےتھے۔ روزوں کاحال یہ تھاکہ ’’صوم وصال‘‘ رکھتےتھے،دانا لیتے تھے نہ پانی پیتےتھے،مسلسل روزے رکھتےتھے۔ایسی ذات شب قدر کااستقبال کرنے لیےنئے،جوش وخروش کے ساتھ تیارہیں۔عبادت ومجاہدہ کے لیے کمربستہ ہیں۔ذیل میں چندجھلکیاں پیش ہیں:

رات بھر قیام 

بخاری ومسلم نے متفقہ روایت دی ہے:رسول اللہﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں رات بھرقیام کرتے تھے۔ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہاسے’’أحيأ ليله‘‘کےالفاظ مروی ہیں۔رسول کریم ﷺ ان راتوں کے علاوہ پوری رات کبھی نہیں جاگتے تھے۔

اہل خانہ کی بیداری

رسول کریم ﷺ خود عبادت فرماتےتھے، اہل خانہ کوبھی جگاتے تھے،انہیں سجدہ ریزی کی تعلیم دیتے تھے،اپنے خالق ومالک سے رشتۂ عبودیت استوارکرنے کادرس دیتےتھے،حدیث شریف میں’’أيقظ أهله‘‘کے الفاظ واردہوئے ہیں۔طبرانی جیسے محدثین نے لکھاہے کہ:رسول اللہﷺ کی بیداری کی مہم اہل خانہ تک محدود نہیں تھی،بلکہ بیداری وعبادت گزاری کی طاقت رکھنے والے ہرخورد وکلاں کو شامل عبادت کرتےتھے،انہیں شب بیداری کا حکم کرتےتھے۔

اعتکاف کی پابندی 

رسول کریم ﷺشب قدر کی جستجو میں آخری عشرہ کا پابندی سے اعتکاف فرماتے تھے،اعتکاف آپ کا معمول بن گیاتھا، آپ اسے کبھی ترک نہیں فرماتے تھے۔اپنے جانثاروںکواعتکاف اورجستجوئے شب قدرکی رغبت دلاتے تھے،فرماتے تھے:’’رمضان کے آخری دس دنوں میں شب قدر کی تلاش کرو‘‘۔ایک روایت میں ہے’’يعتكف في العشر الأواخر يتحرى ليلة القدر فيها‘‘رسول اللہﷺ عشرئہ اخیرمیںاعتکاف کرتےاور شب قدرکی جستجوکرتےتھے۔[تطریز ریاض الصالحین،فیصل بن عبد العزیز،ج:2،ص:165،مکتبہ شاملہ]

بے پایاں سخاوت

روشنی کی رفتار،سرعت آبشار،تندی موج ولہراورتیزیِ بادصرصرسب کی پیمائش کے آلے ایجاد کئے جاچکے ہیں۔رسول کریم ﷺکے جود وسخاکوتولنے کاکوئی پیمانہ ایجادہواہےاور نہ اس کاامکان ہے۔آپ سخی تھے،فیاض تھے،دونوںہاتھوں سے دیتے تھے،جب رمضان کامہینہ آتا،قدرکی راتیں آتیں،آخری عشرہ کےایام آتے،جبرئیل امین علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کادورہ ہوتا؛نیکیوں کے ان موسم بہارمیںآپ ﷺ کی سخاوت تیزہواسے تیزترہوتی ۔’’كَانَ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ فَلَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدُ بِالْخَيْرِ مِنْ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ‘‘حضرت جبرئیل ہرشب رمضان رسول اللہﷺ کے پاس آتے،قرآن کریم کادورہ کرتے،اس وقت رسول اللہﷺ تیزہواسے بڑھ کرجودوسخاکرتے۔[بخاری ،مرجع سابق، باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہﷺ ،حدیث نمبر6]
شب قدراللہ عزوجل کاتحفہ ہے، فضائل کی جامع ہے، برکات کی منبع ہے-فرشتوںسے ملاقات، رب سےمناجات اور لطف و عنایات والی ہے۔یہ تحفہ رسول اکرمﷺ کی امت کوملاہے۔جامع الاحادیث میں امام سیوطی نے دیلمی سےنقل کیاہے:’’ إن الله وهب لأمتى ليلة القدر،ولم يعطها من كان قبلكم‘‘اللہ تعالیٰ نے شب قدر میری امت کودیا،ازیں قبل کسی اورکویہ شب نہیں دی گئی۔[جامع الاحادیث،امام جلال الدین سیوطی،37/6،حدیث نمبر39912،مکتبہ شاملہ]
ہمیں غورکرناچاہیے؛ سید عالم ﷺ مقبول ہیں،معصوم ہیں،بخشے بخشائے ہیں۔وہ اللہ کی خوشنودی کی تلاش میںرہتے تھے،شب قدر کی جستجومیں رہتے تھے ، جدوجہد فرماتے تھے،رات بھرمصروف عبادت رہتے تھے،اہل وعیال کوبستروںسے اٹھاتے تھے،انہیںآغوش نیندسےآغوش عبادت میںبٹھاتے تھے۔کیاانہیں ایساکرنے کی ضرورت تھی؟یقیناً نہیں تھی،وہ ہمیں تحفۂ خداوندی کی قدربتانے کےلیے ایساکرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے نمونہ ہیں۔ہمیں اللہ تعالی کی رحمت و مغفرت کی ضرورت ہے۔ لہٰذا، ہمیں اس رات کی تلاش و جستجو کرنا چاہیے اور آخری عشرہ کی راتوں کو ذکر و عبادت میں گزارنا چاہیے۔

طالب دعا
عبد الخبیر اشرفی مصباحی،متوطن:مہان خاں،بوڑھی جاگیر،اسلام پور،اتردیناجپور،9932807264

Tuesday, October 1, 2019

فارغین مدارس میں داعیانہ فکر وکردار کی ضرورت اور اس کے تقاضے


از قلم : عبد الخبیر اشرفی مصباحی، پرنسپل مدرسہ عربیہ اہل سنت منظر اسلام، التفات گنج ،امبیڈکر نگر


قرآن کریم کا مطمح نظر یہ ہے کہ دنیا کے ہر مسلمان کو اپنے دین ومذہب کا مبلغ ہونا چاہیے- اللہ عزوجل شانہ فرماتاہے:’’کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَلَوْ اٰمَنَ اَہْلُ الْکِتٰبِ لَکَانَ خَیْرًا لَّہُمْ مِنْہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَاَکْثَرُہُمُ الْفٰسِقُوْنَ‘‘تم بہتر ہواُن سب اُمتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور بُرائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو اور اگر کتابی ایمان لاتے تو اُن کا بھلا تھااُن میں کچھ مسلمان ہیں اور زیادہ کافر[سورئہ آل عمران :۱۱۰،ترجمہ:کنز الایمان]صاحب قرآن مصطفی جان رحمت صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان بھی یہی ہے :’’ بلغواعنی ولوآیۃ‘‘میری طرف سے دنیا والوں کو پہنچادو اگرچہ ایک ہی بات سہی-
علماومشائخ حضرات انبیاعلیہم الصلاۃ والسلام کے نائب ووارث ہوتے ہیں ، اس لیے ان کے کاندھوں پر یہ ذمہ داری بدرجۂ اتم عائد ہوتی ہے کہ وہ دنیا والوں میں دعوت تبلیغ کا فریضہ انجام دیں - قرآن کریم نے نے بھی علماومشائخ کو خصوصی ذمہ داری نبھانے کی تاکید فرمائی ہے- ارشاد ربانی ہے:’’وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً  فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْہُمْ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوْا فِی الدِّیْنِ وَلِیُنْذِرُوْا قَوْمَہُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَیْہِمْ لَعَلَّہُمْ یَحْذَرُوْنَ ‘‘-اور مسلمانوں سے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سب کے سب نکلیں تو کیوں نہ ہو کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور واپس آکر اپنی قوم کو ڈر سنائیںاس امید پر کہ وہ بچیں [سورئہ توبہ :۱۲۲، ترجمہ: کنز الایمان]
موجودہ دورمیںدعوت وتبلیغ کے سلسلے میں مدارس کا کردار
دعوت وتبلیغ کے کاموں کو قوم کے سامنے انفرادی واجتماعی دونوں طریقے سے پیش کرنے کا قرآن کریم نے نظریہ دیا ہے - لیکن اجتماعی وتنظیمی دعوت کے اندر جو خوبیاں موجود ہیں وہ کسی ذی شعور انسان سے پوشیدہ نہیں ہے - انفرادی دعوت کے سلسلے میں قرآن کریم کی اس آیت کریمہ پر غور کرنا چاہیے-’’وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَی اللہِ وَ عَمِلَ صٰلِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ‘‘-اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ کی طرف بلائے اور نیکی کرے اور کہے میں مسلمان ہوں-[سورئہ حم سجدہ ۳۳، ترجمہ کنز الایمان] رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ عن ابی سعید رضی اللہ عنہ قال سمعت رسول اللہ ﷺ یقول :’’ من رأی منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ وذالک أضعف الایمان‘‘حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میںنے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا کہ تم میں جو شخص خلاف شریعت کام دیکھے تو اپنے ہاتھوں سے اسکی اصلاح کرے اگر طاقت نہ رکھتاہو تو زبان سے اسکو روکے اگر اسکی بھی طاقت نہ رکھتاہو تو دل سے اسکو براجانے یہ ایمان کا کمزورترین درجہ ہے-
انفرادی تبلیغ سے زیادہ کارآمد تنظیمی تبلیغ ہوتی ہے - تنظیمی سطح پر جو کام ہوگا اسکے اثرات ونتائج دوررس ہوں گے - قرآن کریم نے مبلغین کی تنظیم سازی کا حکم اس انداز میں دیاہے -’’وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْن‘‘اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بُری سے منع کریں اور یہی لوگ مُراد کو پہنچے [سورئہ آل عمران:۳، ترجمہ: کنز الایمان]ایک دوسری آیت میں یوں ارشاد ہے-’’وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً  فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْہُمْ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوْا فِی الدِّیْنِ وَلِیُنْذِرُوْا قَوْمَہُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَیْہِمْ لَعَلَّہُمْ یَحْذَرُوْنَ‘‘-اور مسلمانوں سے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سب کے سب نکلیں تو کیوں نہ ہو کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور واپس آکر اپنی قوم کو ڈر سنائیںاس امید پر کہ وہ بچیں [سورئہ توبہ :۱۲۲ترجمہ: کنز الایمان]
مذکورہ آیتوں میں قرآن کریم کا منشایہ ہے کہ دعوت وتبلیغ اور دین سکھانے کے لیے مومنوں میں سے کچھ لوگوں پر مشتمل ایک جماعت یا تنظیم ہونی چاہیے اور اہل ایمان میں سے کچھ لوگوں کو تعلیم دین کے لیے نکلتے رہنا چاہیے - ماضی میںدعوت وتبلیغ کے میدان میں مدارس اسلامیہ نے بڑا اہم کردار ادا کیاہے -اسلاف کرام نے اسلامی پیغام رسانی کے لیے مدارس ومساجد کو ایک بڑے پلیٹ فارم کے طور استعمال کیاہے-یہ کام مدارس اسلامیہ چاہیں تو اب بھی بخوبی انجام دے سکتے ہیں - مدارس کے پا س اس کے لیے اہل افراد بھی ہیں اور فنڈ بھی ہے- لیکن حرماں نصیبی یہ ہے کہ ہندوستان میں مدارس اسلامیہ کے اس وسیع نیٹ ورک میں شاید ہی کوئی مدرسہ ایسا ہو جو دعوت وتبلیغ کے لیے دیہی وشہری علاقوں میں قافلے روانہ کرتے ہوں - مطبخ ، مدرسین کی تنخواہ ، تعمیر عمارات وغیرہا کی طرح دعوت وتبلیغ کے لیے الگ سے بجٹ مختص کرتے ہوں بلکہ یہ کہنا مبالغہ نہیں ہونا چاہیے کہ ان مدارس کے قیام میں دعوت وتبلیغ کا جذبہ کارفرماہی نہیں ہوتا - بانیان مدارس کے نیت وارادے میں صرف دینی ومذہبی تعلیم کا رسمی فروغ وارتقاکا جذبہ شامل ہوتاہے اور بس-شاید یہی وجہ ہے کہ فارغین مدارس اسلامیہ اساتذہ واراکین کی مساعی جمیلہ اورانکی شفقت ومہر بانی سے بہترین مدرس اور اپنی ذاتی لگاو ولگن اور خداد داد نعمتوں کے سہارے بہترین خطیب اورعمدہ مقررومحرر تو بن جاتے ہیں مبلغ وداعی نہیں بن پاتے -فارغین مدارس اسلامیہ کے خطیب ومقرر بن جانے کا انتساب ہم نے اراکین واساتذہ کی طرف اس لیے نہیں کیا کہ تقریر وتحریر کے میدان میں بھی اکثر مدارس میں طلبہ کی مشق وتمرین کی طرف کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی اور نہ ہی اس کے لیے کوئی نصاب وقواعد زیردرس ہوتے ہیں بلکہ اس کے لیے طلبہ خود انجمنیں قائم کرتے ہیں خود ہی ان کے صدر وسکریٹری ہوتے ہیں اور خود ہی مصلح ومبصر - اساتذہ واراکین کو نہ انکی تقریروں میں میں غلطیوں کی اصلاح کاخیال ہوتاہے اور نہ ہی ان کی تحریروں میں نکھار پیداکرنے کی فکر دامن گیر ہوتی ہے - ایسے عالم میں فارغین مدارس اسلامیہ کو اگر ہم بشکل مبلغین ودعاۃ دیکھنا چاہیں تو یہ سوائے حسن ظن کے اور کچھ بھی نہیں-
خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کردے
کہ تیرے بحرکی موجوں میںاضطراب نہیں
مذکورہ گفتگو سے ہمارہ مقصد ہر گز یہ ہے کہ سارے بانیان مدارس ایک ہی صف میں کھڑے ہیں اور جملہ اساتذئہ مدارس اسلامیہ ایک ہی میدان کے شہسوار ہیں بلکہ ان میں بعض یقینا ایسے ہوں گے جو ہمہ جہت مقاصد کے تحت کسی مدرسہ کی بنیاد رکھتے ہوں گے اور وہ اپنے مقاصدکی تکمیل کے لیے جد وجہد بھی کرتے ہوں گے مگر ان کو خاطرخواہ نتیجہ اس لیے نہیں مل پاتا کہ یہ ان کی شخصی کاوش ہوتی ہے جبکہ دعوت وتبلیغ کا کام تنظیمی واجتماعی کاوشوںکا متقاضی ہے -اور قرآن کریم نے ان ہی کاوشوںپر کامیابی کی بشارت دی ہے-
دور حاضر میں فارغین مدارس کے اندر دعوتی عنصر کا فقدان؟
اصحاب دعوۃ وتبلیغ کی اصل فیکٹری دینی ومذہبی درسگاہیں ہی ہیں- یہی سے مبلغین ودعاۃ تیارہوتے رہے ہیں-اور آج بھی بقول وبزعم خویش ہرخطیب وامام، مقرر ومحرر اور معلم ومدرس علمائے کرام دعوت وتبلیغ ہی کا کام انجام دے رہے ہیں - پھر بھی ان کے عمل کو دعوت وتبلیغ اور انکو مبلغ وداعی تسلیم نہیں کیا جاتا؟ یہ نہایت حیرت انگیز اور دلچسپ معاملہ بلکہ معمہ ہے! اس معاملہ یا معمہ کے حل کے لیے اس کے اسباب ووجوہات کی تلاش وجستجوکی جانی چاہیے-
برگ حنا پہ لکھتاہوں درد دل کی بات
شاید کہ رفتہ رفتہ لگے دل ربا کے تھ
٭ خطابت وامات ، تحریر وتقریر اور تعلیم وتدریس کے معنی کے اندر دعوت وتبلیغ کے معنی کی ’’تضمین‘‘ تھی اس لیے ہر خطیب وامام، محرر ومقرر اور معلم ومدرس کو داعی ومبلغ سمجھا جاتاتھا- اب دعوت وتبلیغ دین کا الگ شعبہ بن گیاہے - ضرورت زمانے کے پیش نظر اس شعبہ کی طرف مستقل توجہ دینے کی اہمیت بڑھ گئی ہے - شاید یہی وجہ ہے کہ دانشوروںنے دعوت وتبلیغ کو ایک الگ اصطلاح کے طور پر دیکھنا شروع کردیاہے اور اس کے لیے مستقل طور پر جماعتیں وتنظیمیںمیدان عمل میں آرہی ہیں - بلفط دیگرخطابت وامامت، تحریر وتقریر اور تعلیم وتدریس کے الفاظ سے دعوت وتلیغ کے معنی کی ’’تجرید‘‘ کر لی گئی ہے-
٭ دعوت وتبلیغ کا کام اخلاص پر مبنی ہے، اس کے لیے قوم سے کوئی اجرت طلب نہیں کی جاتی ہے - ہمارے اسلاف کا بھی یہی وطیرہ رہاہے- قرآن کریم نے بھی یہی نظریہ پیش کیاہے- فرمان الہی ہے-’’وَمَآ اَسْـَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘‘اور میں تم سے کچھ اس پر[تبلیغ دین پر]اُ جرت نہیں مانگتا میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جہان کا رب ہے [سورئہ شعراء:۱۴۶، ترجمہ کنز الایمان]خطابت وامامت اور تعلیم وتدریس وغیرہا دینی امورپر پہلے اجرت نہیں لی جاتی تھی اور شرعایہ ناجائز وحرام بھی تھا- مگر حالات زمانہ کے بدلنے سے مسائل میں بھی تبدیلی واقع ہوئی اور دین متین کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے علمائے متأخرین نے خدمت دین پر اجرت کے جواز کا فتوی صادر فرمایا-رفتہ رفتہ موجودہ دور میں خدمت دین کا کام تقریبا پیشہ کی حیثیت میں آگیا اور اس پر اجرت ومعاوضہ مقصد اعظم بن گیا - اخلاص وللہیت دلوںسے رخصت ہوچکی -اب تو حال یہ ہے کہ منچاہی تنخواہوں کے بغیر باصلاحیت مدرسین درسگاہوں کی زینت بنناپسند نہیں کرتے اور منہ مانگے نذرانے کے بغیر شیریں بیان خطیب رونق اسٹیج نہیں ہوتے-شاید یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور میںپیشہ ورعلماوخطباکو لوگوں نے دعاۃ ومبلغین میں شمار کرناچھوڑدیاہے-
کس طرح ہوا کند تیرا نشتر تحقیق
ہوتے کیوں نہیں تجھ سے ستاروں کے جگر چاک
٭ تعلیم وتعلّم کا مقصد انسان کو صالح بندہ بنانا، دین ومذہب کا بے لوث خادم بنانا اور لوگوں کی اصلاح کرنا ہے-اس کی پہلی سیڑھی اخلاص نیت ہے- اس لیے ہمارے اسلاف کرام نے ایمان واسلام کے ساتھ ’’احسان‘‘ کی تعلیم کا خصوصی اہتمام فرمایاکرتے تھے- تاکہ طالبان علوم نبویہ بوقت فراغت زیور علم سے آراستہ وپیراستہ ہونے کے ساتھ احسان وتزکیہ کے زیور سے بھی مزین ہو کر مدرسوں سے نکلیں- بعض حضرات علوم ظاہرہ کی تکمیل کے بعد برسوں کسی مرشد کی صحبت میں رہ کرباطنی علوم [احسان] کی تعلیم حاصل کیا کرتے تھے - پھر مسند درس وتبلیغ لگاتے تھے اور ارشاد وبیان کی بساط بچھاتے تھے- اب حالات یکسر بدل چکے ہیں - تعلیم کی مقصدیت میں تبدیلی آچکی ہے- والدین کی نیت میں بہترمعاش، اساتذہ کی نیت وارادے میں اچھی صلاحیت ولیاقت اور طلبہ کاہدف سستی شہرت ودولت ہے-ان مقاصد کے حصول کے لیے جو تعلیم حاصل کی جائیگی اس سے دنیاتو کمائی جاسکتی ہے دین کی خدمت نہیںکی جاسکتی -
موجودہ دور میں فارغ ہونے والے طلبہ سے دین کی خدمت اور دعوت وتبلیغ کا کام لینے کے لیے اپنے منہج سے ہٹ کر کچھ اور سوچنے وکرنے کی ضرورت ہے- دین کا اہم رکن ’’احسان ‘‘ جوہماری عملی زندگی کے ساتھ ساتھ درس وتدریس کے مواد سے بھی رخصت ہوچکاہے اسے واپس لانے کی ضرورت ہے-طلبہ کے اندر مذہب وملت کی خدمت کا جذبہ بیدارکرنے کے لیے اسلاف کی سیرت وسوانح اور توکل وللہیت کی تعلیم کو فروغ دینے کی ضرورت ہے-علماوطلبہ کوبیش ازبیش مشاہرہ ووظیفہ دے کر دنیاسے فارغ کرکے دین کی خدمت میںلگانے کی ضرورت ہے- مختصریہ کہ مجدد ملت اعلی حضرت مولانا الشاہ احمد رضا خان علیہ الرضوان کے’’ دس نکاتی پروگرام‘‘کو مکمل طور نافذ کئے جانے کی ضرورت ہے - انشاء اللہ تعالی مدارس کے قیام، طلبہ کا تعلّم اور مدرسین کی تعلیم کا صحیح مقصد حاصل ہو جائے گا-
غیر تعلیم یافتہ اوردیہاتی عوام میں دعوت وتبلیغ
دعوت وتبلیغ کا دائرہ بہت وسیع ہے اور امت مسلمہ کی پوری نسل انسانیت بلکہ نسل آدم علی نبینا وعلیہ السلام کا ہر فرد اس کا مخاطب ہے-لیکن یہ کسی فرد یاتنظیم کی بس سے باہرہے کہ پوری انسانی آبادی تک اپنی دعوت پہنچاسکے - اس لیے دعوت کے کام کے لیے زمرہ بندی بہت ضروری ہے-پوری انسانی آبادی کو جنس، تعلیم، مذہب وملت، عمر،رواج ورسوم بودوباش اور علاقوں کے اعتبار سے کئی زمروں میں تقسیم کیاجاسکتاہے- پھر ان زمروں کی زبان وبیان کا تجزیہ اور ضروریات ولحاظات کا تخمینہ لگاکر دعوت وتبلیغ کا کام کیا سکتاہے-
ہمارا مشاہدہ ہے کہ شہری زندگی کی ضرورتیں دیہاتی زندگی کی ضرورتوں سے مختلف ہوتی ہیں-دونوں علاقوں کے رواج ورسوم الگ الگ ہوتے ہیں - تعلیم کی فیصد بھی دونوں جگہوں پر یکسانیت نہیں ہوتی-تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ افراد کی طرز زندگی میں بھی یکسانیت نہیں ہوتی -جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال جس پیمانے پرتعلیم یافتہ لوگوں اور شہروں میں کیاجاتاہے غیر تعلیم یافتہ لوگوں اور دیہاتوں میں اس پیمانے پر ان کا استعمال نہیں کیاجاتا- اس نوعیت کے بہت امتیازات شہری ودیہاتی زندگی کے مابین غور کرنے سے نمایاں ہوتے ہیں- لہذا فطری بات ہے کہ دونوں علاقوں میں تبلیغ ودعوت کا کام ایک ہی طرز سے انجام دینااور اس کے مطلوبہ نتائج کی امید رکھنا بے معنی سی بات ہوگی-
دیہی علاقوں میں دعوت وتبلیغ کے لیے یہ طریقے مؤثر ہوسکتے ہیں:
٭ مذہبی اجتماع، رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ،صحابہ وصالحین کی سیرت وسوانح کی محفلیں-
٭ ذاتی ملاقاتیں-
٭ پنچ وقتہ نمازوں کے بعد درس قرآن وحدیث-
٭ مذہبی وعصری تعلیم گاہوں میںعلم حاصل کرنے والوں بچوںاوران کے والدین وسرپرستوںکی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انھیںدین کی طرف مائل کرنے کی کوشش -وغیرہ
انسان جب غیر تعلیم یافتہ ہواور ساتھ ہی دیہاتی سماج سے وابستہ بھی ہو ،شہری سماج وتہذیب کا کوئی حصہ اسے نصیب نہ ہواہوتوایسے لوگوں سے بہت سنبھل کر نرم خوئی سے میل جول رکھنے کی ضرورت ہے- اور جب ایک داعی اسلام کے لیے ایسے افراد ہدف اور ٹارگیٹ بن جائیں تو اسکی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے -ایسے افراد کی غلطیوں کو نظر انداز کردینا چاہیے ، حکمت ودانائی کے ساتھ حسین ودلکش انداز میں اپنے مواد کو ان کے سامنے رکھنا چاہیے اور اس کی دلجوئی کرتے رہناچاہیے- اللہ کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا یہ عمل ہمارے لیے مشعل راہ ہے-عن عبد اللہ ابن عباس قال :دخل أعرابی علی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم المسجد وھو جالس،فقال: أللھم اغفرلی ولمحمد ولاتغفر لأحد معنا-قال: فضحک رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ثم قال:’’لقد احتظرت واسعا‘‘ثم ولی الأعرابی حتی اذاکان فی ناحیۃ المسجدفحج لیبول فقال الاعرابی بعد أن فقہ الاِسلام:فقام الی  رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم فلم یؤنبنی ولم یسبنی وقال:’’اِنما بنی ھذا المسجد لذکر اللہ والصلوۃوانہ لایبال فیہ ‘‘ثم دعابسجل من ماء فافرغہ علیہ-[صحیح ابن حبان، حدیث نمبر۱۷۵۶]
حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہماکہتے ہیں ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اس وقت آپ مسجد میں رونق افروز تھے-اس دیہاتی نے کہا: اے اللہ! میری اور محمد[ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم] کی مغفرت فرمااور ہمارے ساتھ کسی کی مغفرت نہ فرمانا-اس کی اس دعاپر اللہ کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے مسکرایا اور فرمایا: تم نے کشادگی میں تنگی اختیار کرلی-پھر وہ دیہاتی واپس چل دیا، جب وہ مسجد کے کنارے پہنچاتو وہیں پیشاب کرنے بیٹھ گیا-جب وہ دیہاتی کو اسلام سمجھ میں آگیاتو وہ خود بیان کرتے ہیں اللہ کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے- آپ نے نہ مجھے ڈانٹااور نہ برابھلا کہابلکہ ایک بالٹی پانی منگواکر بہادیااور فرمایا: یہ مسجد اللہ عزوجل کے ذکر اور نماز کے لیے بنائی کی گئی ہے، مسجدجائے پیشاب نہیں ہے- قرآن کریم میں اللہ عزوجل فرماتاہے :’’فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللہِ لِنْتَ لَہُمْ  وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ  فَاعْفُ عَنْہُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَہُمْ وَشَاوِرْہُمْ فِی الْاَمْرِ  فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ  اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَ ‘‘تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے لئے نرم دل ہوئے اور اگر تم مزاج سخت دل ہوتے تو وہ ضرور تمہارے گرد سے پریشان ہوجاتے تو تم انہیں معاف فرماؤ اور ان کی شفاعت کرو اور کاموں میں ان سے مشورہ لو اور جو کسی بات کا ارادہ پکا کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو بے شک توکل والے اللہ کو پیارے ہیں[سورئہ آل عمران: ۱۵۹، ترجمہ، کنز الایمان]
مختصراً یہ ہے کہ دیہی علاقوں میںغیر تعلیم یافتہ افراد میں دعوت کے لیے طلبہ کو بنیادی علم دین کے ساتھ اخلاص ایثار، صبر وتحمل، اعلی ظرفی وخوش مزاجی، بحث وتکرار وخودنمائی سے اجتناب،مخاطب کی دلجوئی وحوصلہ افزائی اور ذاتی روابط وملنساری کو مضبوط کرنے کی سخت ضرورت ہوتی ہے-
عصری تعلیم یافتہ اوردشہری عوام میں دعوت وتبلیغ
شہری علاقوں میں دعوت کے یہ طریقے مؤثر ہوسکتے ہیں:
٭ پنج وقتہ نمازوں اور نماز جمعہ کے بعد درس قرآن وحدیث-
٭ اسکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیرتعلیم طلبہ واسکالرزاور درس دینے والے اساتذہ کے درمیان اسلامی توسیعی خطابات-
٭ مذکورہ طلبہ کے لیے سمر کلاسیز اور معلمین کے لیے ورک شاپ-
٭ جدید ذرائع ابلاغ مثلاانٹرنیٹ، ٹیلی ویژن ،SMS,MMS,CD,DVDوغیرہ کے ذریعے اسلامی پیغامت کی ترسیل-
٭ آن لائن رابطہ[مثلا:چیٹنگ وویڈیوکالنگ]
٭ ذاتی ملاقاتیں-
٭ سوال جواب کی محفلیں، خاص عنوان وموضوع پر سمینار وسمپوزیم اور دینی ومذہبی جلسے وغیرہ-
دیہی وشہری علاقوں میں دعوت وتبلیغ کے لیے مذکورہ طریقوں کے علاوہ اور دیگرذرائع کا استعمال بھی ممکن ہے- ہم نے صرف چند طریقے اس نظریہ کے ساتھ درج کئے ہیں کہ دونوں علاقوں کے امتیازات کا لحاظ کرتے ہوئے جہاںدعوت کے طریقے الگ الگ ہوسکتے ہیں،وہیں اس بات کا خیال بھی رکھا جانا ضروری ہے کہ دونوں علاقوں کے مبلغین کے اوصاف میں بھی فرق ہوناچاہیے- اس کی وجہ یہ ہے کہ مردم شماری ودیگر فلاحی وسماجی تنظیموں کی سروے رپورٹس سے عیاں ہوتا ہے کہ شہری ودیہاتی علاقوں کے باشندوں میں رہن سہن کے ساتھ ساتھ بنیادی تعلیم واعلی تعلیم میں نمایاں فرق ہے - شہروں میںتعلیم یافتہ لوگ زیادہ ہیں - اور قرآن کریم کی نظر میں تعلیم یافتہ وغیر تعلیم یافتہ افراد دونوں برابر نہیں ہیں- اللہ فرماتاہے:’’ ہَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ  اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا الْاَلْبٰبِ‘‘ کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان نصیحت تو وہی مانتے ہیں جو عقل والے ہیں [سورئہ زمر:۹، ترجمہ کنز الایمان]غیر تعلیم یافتہ لوگوں سے حجت بازی کرنے سے قرآن کریم نے منع فرمایا ہے ، ان سے انداز میں بات چیت کرنے کی تلقین کی ہے کہ ان کے سادہ دلوں کو کسی طرح کی تکلیف نہ ہونے پائے- اللہ فرماتاہے:’’اِذَا خَاطَبَہُمُ الْجٰہِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا ‘‘اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام- [سورئہ فرقان:۶۳، ترجمہ کنز الایمان]لیکن قرآن کریم جب تعلیم یافتہ افرادمثلاعلمائے یہود ونصاری کی بات کرتاہے تو ’’آیات‘ ‘،بینات‘‘اور’’برھان‘‘ کی بات کرتاہے-
یہ بات بھی مسلم ہے کہ عصری تعلیم یافتہ افراد کے افکار وخیالات یکساں نہیں ہوتے ، تاریخ اورجغرافیہ میں مہارت رکھنے والے افراد سائنس اور انجینئرنگ میں مہارت رکھنے والے افراد کے خیالات یکساں نہیںہوسکتے ، ہر ایک علم کے حامل افراد کے سوچنے سمجھنے کا معیار جداگانہ ہوتاہے ، اس لیے ان حضرات میں دعوت وتبلیغ کا کام تھوڑا دشوار ہے- مگر مواقع بھی یہی پر زیادہ ہیں کہ ان افراد کے اندر سنجیدگی ومتانت زیادہ ہوتی ہے ان کو سمجھانا بہت حد تک آسان ہوتاہے-
ایسے اشخاص تک رسائی حاصل کرنے کے بعد داعی کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ پہلے مدعو شخص کی نفسیات کو پرکھنے کی کوشش کرے پھر اسکے فن اور موضوع کے موافق گفتگو کا آغاز کرے - اگر مدعوشخص علم طب سے دلچسپی رکھتاہے تو جسم کی تخلیق ، اعضاوجوارح کی خصوصیات اور ان کے اندر اللہ عزوجل کی رکھی ہوئی ہزاروں صلاحیتیوں میں سے کسی ایک کااس انداز میں ذکر کرے کہ مدعوڈاکٹر وطبیب متأثر نہیں تو کم از کم خوش ضرورہوجائے - اسی طرح اگر مدعو شخص آرٹ کا ماہر ہے-تو اس کے سامنے کائنات کی رنگا رونہال، خوب صورتی وجمال مختلف النوع پرندوں ، جانوروں کیڑے مکوڑوں اور انکی تخلیق میں خالق کائنات کے بے انتہاکمال کا ذکر کرکے مدعو آرٹسٹ کو متأثر کیا جاسکتاہے - اور اپنی دعوت اس کے سامنے بحسن وخوبی پیش کی جاسکتی ہے-
کند ہم جنس با ہم جنس پرواز
کبوتر باکبوتر باز باباز
عصری تعلیم یافتہ مدعو شخص کر اگر مسلمان ہے تو داعی کو بہت حد تک پیغام رسانی میں آسانی ہوجاتی ہے ورنہ بڑی محنت وکاوش کرنی پڑتی ہے- داعی اسلام اگر ہمت سے کام لے اور پیغام اسلام کو منطقی انداز اور دلائل کے ساتھ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے پیش کرنے میں کامیاب ہوجائے تو امید ہے کہ اسکی محنت وکاوش رنگ لائے گی - کیوںکہ دنیاوی تعلیم یافتہ طبقہ جہاں مواد اور انداز جدید تقاضوں کے موافق دیکھتے ہیں تو اسکی طرف جلد مائل ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں-اللہ تعالی فرماتاہے:’’اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجٰدِلْہُمْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ ‘‘اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤپکّی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو[سورئہ نحل:۱۲۵، ترجمہ کنز الایمان]
مختصراً یہ ہے کہ تعلیم یافتہ وشہری تہذیب کے حامل افراد میں دعوت کے لیے طلبہ کو بنیادی علم دین، اخلاص وایثار، صبر وتحمل، اعلی ظرفی وخوش مزاجی، بحث وتکرار وخودنمائی سے اجتناب،مخاطب کی دلجوئی وحوصلہ افزائی اور ذاتی روابط وملنساری کے ساتھ ساتھ عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کی ضرورت ہے-خصوصا جدید ذرائع ووسائل کا استعمال، مخاطب کی نفسیات اور دلچسپیوں سے واقفیت، اسلام کی آفاقیت اور جامعیت کا تصور ، دوستانہ وپاکیزہ ماحول سازی اور اپنے پیغام کی حقانیت کا پر غیر متزلزل یقین وغیرہ کے ہتھیاروں سے طلبہ کو لیس کرنے کی ضرورت ہے-
سوال نامے میں نصاب سے متعلق جن باتوں پر اظہار خیال کرنے کے لیے کہاگیاہے- راقم الحروف اس سلسلے اپنے خیالات کو خیال ہی میں رکھنا مناسب خیال کرتاہے -

Thursday, October 18, 2018

مسلمانوں کے مسائل

مسلمانوں کے مسائل 

کستاخانہ خاکون کی اشاعت کے تناظر میں

عالمی تناظرمیں امت مسلمہ کے سامنے چیلنجوں کا انبارہے،ان میں بعض عالمی اور بعض ملکی ہیں ،اسی طرح بعض داخلی اوربعض خارجی ہیں۔
عالمی خارجی چیلنجوں میں سب سے بڑاچیلنج تبشیری مشنری کا ہے جس کا دائرئہ کا رنہایت منظم جد وجہد کے ساتھ عالمی پیمانے پر ہے، وہ غیر عیسائی طریقہ سے عیسائی عقیدے کی طرف لوگوں کو مائل کرنے میں لگے ہوئے ہیں، آپسی فکری اختلافات سے ان کا مشن متأثر نہیں ہوتا،ضرورت پڑنے پر وہ اپنے مخالفین سے بھی اشتراک عمل کرنے میں گریزنہیں کرتے ، وہ پوری دنیامیں مشنری اسپتالوں او راسکولوں کے ایسے جال بچھارکھے ہیں جن میں غیرعیسائیوں کو وہ بآسانی پھانس لیتے ہیں، ان کے دام تذویر میں زیادہ تر مسلمان پھنستے ہیں کیوں کہ مسلمانوں کے پاس تبشیری مشنری کے وسائل کے مقابلے میں عشرعشیر وسائل بھی مہیا نہیں ہیں۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مسلمانوں کو ان سے بہتروسائل سے آراستہ ہونا ضروری ہے۔
عالمی داخلی چیلنجوں میں سب سے بڑاچیلنج یہ ہے کہ مسلمانوں میں خوب سے خوب ترکی تلاش اورمسلسل ترقی کرنے کی خواہش ماند پڑچکی ہے، ان میں فکری جمود وتعطل نے بسیراکرلیا ہے۔سائنس اورٹیکنالوجی کی عمومی اوراعلیٰ تعلیم کے دروازے انہوں نے اپنے لیے بند کرلیے ہیں۔ظاہر سی بات ہے کہ معاشرے میں سب سے زیادہ عزت، تعلیم، تحقیق ، دریافت اوراس سے وابستہ افراد کی ہوتی ہے۔ مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ صنعتی ، زرعی ، طبی ،دفاعی وغیرہ میدانوں میں جدید ترین علم پردسترس حاصل کریں۔ اس کے بغیرحقیقی معنوں میں اپنی آزادی برقراررکھنا تقریباً نا ممکن ہے۔
مسلمانوں کو اندرون ملک بہت سے چیلنجوں کا سامناہے ، ان میں سب سے بڑاخارجی چیلنج ہم وطنوں کا تعصبانہ وجارحانہ اقدام ہے جس سے مسلمانوں کی شناخت اوروجود دونوں خطرے میں ہے۔ میری اپنی رائے یہ ہے کہ اس خطرناک اقدام سے محفوظ رہنے کے لیے مسلمانوں کو عدم تشدد کی راہ اختیارکرنی چاہیے ،غیرمسلموں سے اپنے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش اور سیاسی میدان میں صحیح حکمت عملی اختیارکرنی چاہیے۔ ہرمسئلے کوآئین وقانون اورانصاف وضمیرکی دہائی دے کر اپنا موقف واضح کرناچاہیے۔ جن مسائل میں مسلمان ظلم کے شکارہور ہے ہیں ان میں واقعی اپنی مظلومیت دنیا کے سامنے پیش کرنی چاہیے،ممکن ہے اس طریقۂ کارسے باضمیرلوگوں کی ہمدردیاں حاصل ہوسکیں گی اور عالمی پیمانے پرحکومتی اہل کاروں پر دباؤ بن پائے گا۔
اندرون ملک مسلمانوں کا سب سے بڑاداخلی چیلنج ان کا آپسی انتشاروافتراق ہے۔اس کاخاتمہ کیسے ممکن ہو؟ اس کو لے کرسرجوڑکربیٹھنے کی ضرورت ہے۔ہم اپنی کمزوریوں کاتجزیہ کرنے کے بجائے اس وہم کاشکارہوگئے ہیں کہ ہمارے خلاف سازشیں ہورہی ہیں۔ ہرمعاملے میں دوسروں کومطعون کرنے ، دوسروں کوالزامات دینے اوراپنی مصیبتوں کے لیے دوسروں کوذمہ دارٹھہرانے کی نفسیات ہمارے اندر سرایت کرچکی ہیںجس کی وجہ سے دوریاں بڑھتی جارہی ہیں۔ہم کوان نفسیات سے اوپر اٹھ کر بنام سنیت جینے مرنے کا عہد لینا ہوگا۔آج مسلمان دنیا کی دوسری بڑی مذہبی آبادی ہیں مگر مسائل کے اعتبار سے دنیا کی پہلی بڑی آبادی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جدید دنیا کے سامنے مسلمان اسلام کوایک قابل عمل اور قابل قبول حقیقت کے طور پر پیش کرنے میں ناکام ثابت ہورہے ہیں۔ دنیا مذہب اسلام کو ایک چیلنج طوردیکھ رہی ہے۔


Sunday, September 9, 2018

کس سے اس درد مصیبت کا بیاں ہوتا ہے
 آنکھیں روتی ہیں، قلم روتا ہے، دل روتا ہے

افسوس صد افسوس کہ آج مؤرخہ ۲۰ جولائی ۲۰۱۸بعدنماز مغرب ہمارے درمیان سے وارث علوم اعلی حضرت ،جانشین حضورمفتی اعظم ہند ،تاج الشریعہ سیدی مولانا الشاہ الحاج مفتی اختررضاخان ازہری رضوی علیہ الرحمہ داعی اجل کو لبیک کَہ گئے اورہم سب کو روتا بلکتا اور سسکتا چھوڑ کر راہی جنت ہوئے۔ اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ-موت بر حق ہے، اس سے کسی کوراہ فرار نہیں، جس نے بھی اس دنیائے ہست و بود میں قدم رکھا ہےاسے ایک نہ ایک دن گوشۂ قبر کی تنہائی کا سامنایقیناً کرنا پڑے گا۔اس دنیا کا دستور یہی ہے کہ آئے دن کوئی نہ کوئی بچھڑتا ہےاوراپنے خویش واقارب کو داغ مفارقت دے جاتاہے۔
سیدی تاج الشریعہ کی وفات حسرت آیات ایسا عظیم سانحہ ہے جس کی بھر پائی اس قحط الرجال کے دور میں ناممکن ساہے، علم و حکمت سے لبریزرہنے کے باوجود آپ نےملک وبیرونی ملک اتنے تبلغی اسفارکئے ہیں اوردین وسنیت کا وہ کام کیاہے کہ یقینا ًعلم و حکمت خودآپ پر نازاں ہے۔
 لہٰذا ہم لوگ انتہائی غم و اندوہ کے ساتھ اولاد کو باپ کی، بھائی کو بھائی کی، دوست کو دوست کی، عزیز کو ایک عزیز کی تعزیت پیش کرتے ہیںاور دعاکرتے ہیں کہ رب قدیر حضرت کو اپنے جوار عزت و جلال میں جگہ دے ،جنت الفردوس میں اعلی مقام عطاکرےاور ان کے ورثہ خصوصاً حضرت مولانا عسجدرضاخان صاحب کو صبر جمیل مرحمت فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ اجمعین۔
یکے ازسوگوراں
عبد الخبیر اشرفی مصباحی      
صدرالمدرسین دار العلوم اہل سنت منظر اسلام
التفات گنج امبیڈکر نگر
9932807264

سخت ویراں ہے جہاں تیرے بعد

عبد الخبیر اشرفی مصباحی صدر المدرسین دار العلوم اہل سنت منظراسلام، التفات گنج ،امبیڈکرنگر 

وارث علوم اعلی حضرت ،جانشین مفتی اعظم ہند ،تاج الشریعہ حضرت علامہ مفتی اختر رضاخان علیہ الرحمہ کی شخصیت عالمی شہرت یافتہ تھی،آپ کے دنیاسے پردہ کرلینے سے پورے عالم اسلام کا خسارہ ہواجس کی بھرپائی بہت مشکل ہے،انہوں نے پوری زندگی دین وسنیت اورمذہب ومسلک کی ترویج اشاعت میں صرف کردی۔
حضرت تاج الشریعہ کا تعلق مشہور علمی وروحانی خانوادہ، خانوادئہ رضاسے ہے۔ امام العلماعلامہ رضا علی خان، رئیس المتلمین علامہ نقی علی خان،اعلی حضرت مجدد دین وملت امام احمد رضان خان،مفتی اعظم ہند علامہ مصطفی رضا خان اور حجۃ الاسلام علامہ حامد رضاخان علیہم الرحمہ اسی خانوادہ کے علمی وروحانی سربراہ تھےاوراسی خانوادہ کے گل سرسبد حضرت تاج الشریعہ علیہ الرحمہ ہوئےجو ذکاوت طبع، قوت اتقان اور وسعت مطالعہ میں اپنی مثال آپ تھے۔آپ کا علمی پہلو بہت مضبوط تھا، جن دنوں آپ دار العلوم منظر اسلام میںتعلیم حاصل کررہے تھے ، اردو اخبارات کا عربی میں ترجمہ کرکے مصری عالم مولانا عبد التواب کو دکھایاکرتے تھے اور ان کے ساتھ عربی میںکلام کرتے تھے۔ان ہی کے اشارہ پر آپ کو جامعہ ازہر بھیجاگیا،جامعہ ازہر کی تعلیم نے آپ کو ماہر علوم دینیہ کے ساتھ سہ لسانی صاحب اسلوب ادیب بنادیا۔ علوم دینیہ مثلاتفسیر وحدیث ، فقہ واصول فقہ، افتاوقضااورقرأت وتجوید میں آپ کو یدطولی حاصل تھا۔ چالیس سالوں سے زاید عرصے تک مسند افتانےآپ سے رونق پائی۔علوم عقلیہ مثلامنطق وفلسفہ ،ریاضی وجفراورتکسیر وتوقیت میں بھی آپ نے کمال حاصل کیاتھا۔نثر ونظم دونوں اقسام میں آپ کے علمی آثار موجود ہیں۔
حضرت تاج الشریعہ علیہ الرحمہ سہ لسانی شاعر بھی تھےاور خطیب بھی، ہندوستان ،پاکستان اور بنگلہ دیش میں آپ کا خطاب اردو میں ہوتاتھا، عرب ممالک میں عربی اوریورپین وامریکن ممالک میں انگریزی میں خطاب کرتےتھے۔اردو وعربی زبانوں میں آپ کو ملکہ حاصل تھا ، ان دونوں زبانوں میں آپ کی برجستہ گوئی اس پر شاہدعدل ہے۔آپ کی شاعری میں فصاحت وبلاغت،ندرت خیال اورحسن ترتیب دیکھ کراندازہ ہوتاہے کہ آپ ان زبانوں کے قدیم وجدید اسلوب سے واقف تھے۔
حضرت تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے مریدین تقریباًتمام بر اعظم میں پائے جاتے ہیں۔یورپ وامریکہ کی بہ نسبت ایشائی ممالک میں مریدین کی تعداد زیادہ ہے، مریدین میں ہرقسم کے لوگ شامل ہیں،علماومشایخ، صلحا وصوفیا، شعراوادبا، طلباوریسرچ اسکالرز، پروفیسرولکچررز، قائدین ومفکرین ، مصنّفین ومحققین اورعوام وجہلاسبھی آپ کے دامن کرم سے وابستہ ہیں۔زمرئہ مریدین میںاہل علم ودانش کی شمولیت اور اہل علم وفضل کی آپ سے قربت کی بناپر آپ کے خلفاکی تعداد بھی کثیر ہے۔
حضرت تاج الشریعہ علیہ الرحمہ ایک مضبوط وبے باک دل کے مالک تھے،صداقت وحقانیت پر استحکام کے ساتھ قائم رہتے تھے،کسی لیڈروحکومتی اہل کارسے کبھی خوف نہیں کھاتے تھے، چنانچہ ۱۹۸۴مطابق ۱۴۰۵ھ میں جب آپ نے دوسراحج کیا، سعودی حکومت نے آپ کو قیام گاہ سے گرفتارکرلیا، سی آئی ڈی کے انٹرویومیں آپ نے بلاخوف وخطر اہل سنت وجماعت کے عقائد بیان کئےاور وہابیوں اور قادیانیوں کی تردید کی اور یہ ثابت کردیاکہ بریلوی کوئی فرقہ نہیں ہے، ہمیں بریلوی وہی لوگ کہتے ہیں جسے یہ وہم ہوتاہے کہ بریلوی کوئی نیافرقہ ہے، ہم اہل سنت وجماعت ہیں اوراہل سنت وجماعت کہلواناہی پسند کرتے ہیں۔اسی طرح ۱۹۷۵میں جب ہندوستان میں ایمرجنسی نافذہوئی اور نس بندی کی مہم چلی تو آپ نے اس کے خلاف علمی وعملی تحریک چلائی ۔
یہ غالباً ۱۹۹۴ کی بات تھی جب حضرت تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کو میں نے پہلے باردیکھاتھا، حضرت کی آمد مالیگاؤں مہاراشٹر میں ہوئی تھی، جس گھر میں حضرت کا قیام تھا اس میں اِس کمترین بندہ کابھی آنا جاناتھا،الحمدللہ مسلسل تین روز تک خدمت کا موقع میسر آیاتھا ، واہ!کیا ذات تھی ، سادہ طرز زندگی تھی، حسن اخلاق اور لطف و کرم کے پیکر جمیل تھے،وقت رخصتی دعائیں دیں، سرپہ ہاتھ رکھا ، آج بھی ان نرم گدازہاتھوں کے لمس کا احساس ہورہاہے۔
ان کے جاتے ہی یہ کیاہوگئی گھر کی صورت
نہ وہ دیوار کی صورت ہے نہ درکی صورت

Wednesday, April 11, 2018

شیخ علاء الحق پنڈوی

خلیفہ آئینہ ہند اخی سراج، مرشد مخدوم اشرف کچھوچھوی شیخ عمر علاء الحق پنڈوی -ایک مختصرتعارف
بمناسبت عرس مقدس منعقدہ ۲۱؍تا۲۴؍رجب المرجب ۱۴۳۹ھ
مضمون نگار :عبد الخبیر اشرفی مصباحی
ناشر: اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن -حیدرآباد دکن
پیدائش وجائے پیدائش:
مخدوم العالم شیخ علاء الحق پنڈوی علیہ الرحمہ کی پیدائش سن ۷۰۱ھ مطابق ۱۳۰۲ء میں ہوئی۔آپ کی جائے پیدائش کی تعیین میں مؤرخین کا اختلاف ہے، بعض حضرات نے پنڈوہ اور بعض نے لاہورلکھا ہے۔ راجح یہ ہے کہ آپ کی پیدائش لاہور میں ہوئی، مخدوم سید اشرف جہانگیر کچھوچھوی کے اس قول سے جائے پیدائش کا تعین ہوتاہے’’دار الخلافت جنت آباد عرف گور میں سادات عالیہ رہتے ہیں جو قطب الاولیائے محققین ولُبُّ الاصفیائے مدققین مخدومی مولائی سندی حضرت شیخ علاء الحق قدس اللہ روحہ کے ہمراہ ولایت لاہور وملتان سے آئے تھے۔‘‘[مکتوبات اشرفی،ترجمہ - سیدشاہ ممتاز اشرفی،سید اشرف جہانگیر سمنانی، مکتوب ۳۲، ص:۳۳۸،ناشر دار العلوم اشرفیہ رضویہ اورنگی ٹاون، کراچی پاکستان، سال اشاعت ندارد-]
حسب ونسب:
مخدوم العالم شیخ علاء الحق پنڈوی علیہ الرحمہ کا نسب صحابی رسول حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے ملتاہے۔‘‘ خزینۃ الاصفیا میں ہے کہ:’’معارج الولایت کے مصنف لکھتے ہیں کہ: ’’علاء الدین صحیح النسب قریشی تھے۔ آپ کا نسب نامہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے ملتاہے۔‘‘(خزینۃ الاصفیا، مفتی غلام سرور لاہوری،ج:۲،ص:۲۴۶، مکتبہ نبویہ گنج بخش روڈ، لاہور، سن اشاعت ۲۰۰۱-)آپ کے والد کا نام اصح روایت کے مطابق اسعدتھا۔،اخبار الاخیار، خزینۃ الاصفیااور دیگر معتبر کتابوں میں یہی نام لکھا ہے۔
شیخ عمر علاء الحق پنڈوی کا سیاسی وعلمی مقام:
مخدوم العالم حضرت شیخ عمرعلاء الحق پنڈوی علیہ الرحمہ کا حکومتی امور میں بڑاعمل دخل تھا۔ مؤرخین نے وزرائے حکومت میں آپ کا نام نامی اسم گرامی بھی شامل کیاہے۔آپ کا گھرانہ شاہانِ مملکت کا نور نظر تھا۔ والد گرامی وزیر مالیات اور بیٹا وزیر مملکت تھے۔
آپ علم وفضل میں ایسا کمال رکھتے تھے کہ صاحبان علم وفضل اور اہل جبہ ودستار آپ کے درکی جبہ سائی کرنا اپنی فیروزبختی سمجھتے تھے،آپ اپنے وقت کے سب سے بڑے عالم و فاضل،مفتی و فقیہ، مفسرومحدث، نحوی وصرفی، اورخطیب وداعی تھے۔ اللہ تعالی نے آپ کو علم ظاہری کے ساتھ علم لدنی بھی عطا فرمایا تھا۔ چنانچہ۱۰۱۴ھ میں لکھی گئی کتاب گلزار ابرار میں لکھاہے کہ آپ کو علم لدنی حاصل تھا، چنانچہ شیخ محمد غوثی شطاری ماندوی لکھتے ہیں کہ: ’’علاء الحق، مخدوم العالم، علاء الدین تل بنگالی آپ کا لقب ہے، آپ دونوں جہان کے امام تھے اور درسی ولدنی دونوں علم آپ کو حاصل تھے۔‘‘(اذکار ابرار ترجمہ گلزار ابرار،محمد غوثی شطاری ماندوی ترجمہ فضل احمد جیوری،ص: ۴۰۱، ناشردار النفائس کریم پارک لاہور،سن اشاعت ۷۲۴۱-)
شیخ عمرعلاء الحق پنڈوی علیہ الرحمہ کو اصولی، فقہی اور عربی علوم پر مہارت تامہ حاصل تھی۔ مصنف نزھۃ الخواطر نے لکھاہے کہ:عالم کبیر شیخ عمر بن اسعد لاہوری معروف بہ شیخ علاء الدین پنڈوی فقہ، اصول اور عربی ادب کے علمائے کاملین میں سے تھے، ان کے والدشاہِ بنگال کے وزیر تھے، اس لیے امراء وسلاطین کے نزدیک ان کی بڑی وجاہت اور قدر ومنزلت تھی، ان کی شہرت پوری دنیا میں تھی، وہ درس دیتے اور فائدہ رسانی کرتے تھے، کثیرلوگوں نے ان سے علم حاصل کیا۔‘‘(نزھۃ الخواطر وبھجۃ المسامع و النواظر،عبد الحی لکھنوی، ج:۲،ص:۱۸۱،ناشر دارابن حزم بیروت، لبنان سن اشاعت۱۹۹۹/۱۴۲۰۔)
شیخ عمر علاء الحق پنڈوی علیہ الرحمہ نے خوداپنے علم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی کچھوچھوی سے کہاکہ میں ایک پھل دار درخت ہوں جسے ہلاؤ تو تمہیں علم وحکمت کے پھل ملیں گے،چنانچہ سید وحید اشرف کچھوچھوی لکھتے ہیں کہ:’’آیات قرآنی کی تفسیراور فصوص الحکم اور فتوحات مکیہ کے نکات مجھ سے حاصل کرلو، میں ایک پرُبار درخت ہوں جسے ہلاؤ تو تمھیں عجیب وغریب پھل ملیں گے۔‘‘(حیات مخدوم اشرف سمنانی،سید وحید اشرف، ص:۵۷، ناشرمصنف خود، سن اشاعت۱۹۷۵ء،بحوالہ مکتوبات اشرفی ہفتاد وپنجم -)
طرز زندگی اورلقب گنج نبات:
مخدوم العالم شیخ عمرعلاء الحق پنڈوی علیہ الرحمہ بڑے شاہانہ اندازمیں رہاکرتے تھے اور اپنے آپ کو گنج نبات (مٹھائی کا خزانہ)کہلاتے تھے، اس لقب کو اختیار کرنے کے پیچھے کون سے عوامل کارفرماتھے؟اس سلسلے میں مؤرخین نے الگ الگ وجوہات اور روایات لکھی ہیں: شیخ عبد الرحمن چشتی نے مرآۃ الاسرار میں، مرزا محمد اختر دہلوی نے تذکرئہ اولیائے برصغیر میں اورشیخ وجیہ الدین اشرف لکھنوی نے بحرزخار میں لکھاہے کہ شیخ علاء الحق پنڈوی وفور علم، کثرت اطلاع، زہد وتقوی اور اپنی جاہ ومنزلت و احتشامِ دولت کی وجہ سے اپنے آپ کو گنج نبات کہلاتے تھے، محدث اعظم ہند سید محمد اشرفی کچھوچھوی نے لکھاہے کہ:’’ بعضوں کے خیال میں آپ کو گنج نبات سب سے پہلے آپ کے جلیل القدر خلیفہ حضرت مخدوم سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی نے اظہارِ عقیدت کے طور پر کہا تھاجس کو غیبی قبولیت کا تاج عطاہوا اور آپ کا یہ لقب زبان زد ہو گیا۔ و اللہ تعالیٰ اعلم بحقیقۃ الحال!‘‘(ماہنامہ اشرفی،جلد ۲/شمارہ نمبر۸؛ محرم الحرام۱۳۴۳ ھ /اگست ۱۹۲۴ء-)
بیعت وخلافت:
مخدوم العالم شیخ عمرعلاء الحق پنڈوی علیہ الرحمہ کے علم وعمل، تقویٰ پرہیزگاری اور مقبول بارگاہ الٰہی ہونے کا چرچا چاروں طرف عام ہو چکا تھا۔سینہ کمالِ علم سے اور ذہن جلالِ فضل سے آراستہ تھا۔علماء ومشایخ اورارباب حل وعقد ان کے درکی دربانی،اپنے لیے سرمایۂ افتخار سمجھتے تھے، اہل جبہ ودستاران کی چوکھٹ کی جبیں سائی، اپنی فیروزمندی گردانتے تھے۔ان کی ذات ایسی تھی جن کے سامنے لب کشائی کی کسی میں جرأت نہ تھی۔ وہ ایسی ذات تھی جن کاذکر ہر ایک کیساتھ تھامگر وہ ان میں ممتاز تھے۔وہ سب سے آگے تھے ان سے آگے کوئی نہ تھا۔انہوں نے سب کوپیچھے چھوڑ دیا اورکوئی ان کاپیچھا نہ کر سکا۔وہ سب سے منفرد، ہر فہرست میں سرفہرست، کسی فہرست میں مؤخر نہیں تھے۔ان کی ذات میں زمانے کی ساری عظمتیں جمع تھیں۔
وہ زاہدوں، مرتاضوں اور عابدوں کے رہنما و قائد تھے، حکمراں وتخت نشینوں کے امیر تھے، لیکن ان کی قیادت ورہنمائی علماء جیسی تھی، ان کا عدل وانصاف قاضیوں جیسا تھا اور ان کا یقین و ایقان عارفین باللہ جیسا تھا۔
وہ سمجھ دار عالم،صائب راے فقیہ اور صاحب بصیرت مدبرتھے، ان کاعلم حکومت کی وجہ سے بے کار نہیں ہوا،ان کا تفقہ اقتدار کی وجہ سے ڈگمگایا نہیں، اوران کے فیصلوں نے اپنے متبعین کی رضا مندی کی خاطرکسی پر ظلم نہیں کیا۔
وہ ہمہ جہت ذات تھی، ہرخوبی ان میںموجود تھی، بتقاضۂ بشریت اگر ان میں کوئی نقص تلاش کیاجاتا تو ان کاجلال اوران کی نازواداکے علاوہ کچھ نہ ملتا، رحمت خدا ان کی اس نازواداکو بھی تبدیل کرنا چاہتی تھی،انھیں رنگ تصوف میں دیکھنا پسند کرتی تھی،چنانچہ اللہ کریم کی رحمت ان پر نازل ہوئی کہ سلطان المشایخ سید محمد نظام الدین اولیا نے آئینۂ ہندوستان اخی سراج الدین عثمان کوان کے پاس مرشد کی حیثیت سے بھیج دیا، یہیں سے ان کی حیات میں انقلاب آگیا اور بیعت وخلافت کے بعدان کے رنگ جلال میں جمال گیا، علم باطن وتصوف، آداب طریقت وسلوک اور منازل ہجر ووصال کی جانب توجہ بڑھ گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ سرخیل مشایخ ہوگئے، شیخ العالم بن گئے۔ سلطان المرشدین، مخدوم العالم، گنج نبات جیسے القابات سے نوازے جانے لگے۔
شیخ کی خدمت:
خزینۃ الاصفیا میں ہے کہ:’’جن دنوں شیخ عمرعلاء الحق حضرت شیخ سراج الدین اخی قدس سرہ کی خدمت میں سرفراز ہوئے اور دنیاوی خواہشات اور مال ومنال سے دست برداری کا اعلان کیا، تووہ اپنے پیر ومرشد کے سفر میں ہم سفر رہتے، درویشوں کے لیے طعام پکاکر ساتھ ہوتا، یہ گرم گرم دیگچہ حضرت شیخ علاء الحق سرپر رکھ لیتے اور حضرت کے ساتھ ساتھ چلتے، اس دیگچے کی گرمی سے آپ کے سرکے بال جھڑگئے تھے، حضرت شیخ اخی سراج اکثراوقات ان مقامات سے بھی گذرتے جہاں شیخ علاء الحق کے رشتہ داربڑی شاہانہ زندگی بسرکرتے تھے، لیکن آپ ننگے پاؤں اپنے شیخ کی سواری کے ساتھ ساتھ چلتے، مگر اپنے بھائیوں اور رشتہ داروں کو اس شان وشوکت میں دیکھ کر حضرت علاء الحق پر کوئی دنیاوی تأثر نہ ہوتااور آپ خوش خوش یہ خدمت سرانجام دیتے ریتے۔‘‘۔(خزینۃ الاصفیا،مفتی غلام سرور لاہوری، ج:۲،ص:۲۴۷، مکتبہ نبویہ گنج بخش روڈ لاہور، سن اشاعت ۲۰۰۱-)
صرف اتناہی نہیں کہ حضرت شیخ پنڈوی علیہ الرحمہ نے اپنے پیر ومرشد علیہ الرحمہ کے خورد ونوش کا انتظام سنبھالا، بلکہ آپ نے قلی گیری کے ساتھ ساتھ کہاروں جیساکام بھی انجام دیا۔ اپنے پیر ومرشد کی پالکی کے دائیں ہاتھ کا ڈندا اکثر آپ کے کاندھے پر ہوتاتھا اور آپ اسی حالت میں اپنے خاندان وسسرال والوں کے محلوں کے قریب سے بارہاگذراکرتے تھے، لیکن آپ کی پیشانی پر کوئی بل نہیں آتاتھا۔ لطائف اشرفی میں ہے کہ:’’شیخ سراج الحق قدس سرہ حضرت مخدومی کی نسبت کمال درجہ لطف ومہربانی فرمایا کرتے تھے، لیکن ان سے خدمت اس حد تک لیتے تھے کہ اکثر اوقات حضرت سراج الحق پالکی میں سوار ہوجاتے اور سیر کو نکل جاتے۔ حضرت مخدومی پالکی کا سیدھا ہاتھ کا ڈنڈا اپنے کاندھے پر رکھ کر دور تک پالکی لے جاتے تھے۔‘‘۔(لطائف اشرفی، لطیفہ ششم،حضرت نظام یمنی، ترجمۂ حضرت علامہ شمس بریلوی،ج:۱،ص:۲۵۱،ناشرشیخ محمد ہاشم اشرفی پاکستان، سن اشاعت ندارد-)
سخاوت وفیاضی اورپنڈوہ شریف سے جلاوطنی:
مخدوم العالم شیخ عمرعلاء الحق پنڈوی علیہ الرحمہ کی سخاوت وفیاضی اور بخشش وکرم عام تھی، ہرخطہ میں اس کی شہرت تھی، رفتہ رفتہ اس کی شہرت دربار سلطانی تک پہنچی، خبر سنتے ہی بادشاہ وقت کوحیرانی ہوئی، اس نے اس بے پناہ سخاوت وفیاضی کو اپنی سلطنت وحکومت کے لیے بہتر نہیں سمجھا، حواس باختہ ہوکرآپ کو پنڈوہ شریف چھوڑ دینے کا حکم صادر کردیا،چنانچہ مرزا محمد اختر دہلوی لکھتے ہیں کہ:’’آپ کی خانقاہ میں بہت خرچ تھا، ہزاروں آدمی، خادم ومسافر آتے اور رہتے تھے، سب کو کھانا ملتاتھا، اورجو کچھ جو مانگتا آپ اس کو عطاکرتے، جب یہ خبر بادشاہ کو ہوئی اس کو رشک ہوا، وزراسے کہاکہ: میراخزانہ اس کے خرچ کے آگے ناچیزہے ایسے شخص کاکہ جو اس قدر خرچ کرتاہے اپنے شہر میں رکھنا مصلحت نہیں، آخر حضرت بحکمِ شاہ وہاں سے اٹھ کر سنارگاؤں میں سکونت پذیرہوئے اور خادم کو حکم کیاکہ آج سے دوناخرچ کیاجائے کہ خارچشمِ حاسدوں میں بہتر ہے۔‘‘۔(تذکرۂ اولیائے بر صغیرمعروف بہ تذکرۂ اولیائے ہندوپاکستان،مرزا محمد اختر دہلوی، جلد اول، ص:۱۹۵، ناشر ملک اینڈ کمپنی لاہور، سن اشاعت ندارد-)
تبلیغ واشاعت دین:
مخدوم العالم شیخ علاء الحق پنڈوی علیہ الرحمہ کی ولایت پر علماء ومشائخ کا اجماع ہے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی دین حق کی تبلیغ و اشاعت میں گزاردی۔ سلسلۂ چشتیہ کی تعلیمات سے آپ کے ذریعہ کثیر تعداد میں لوگوں نے ہدایت پائی۔ حق سے غافل ہزاروں نے قبول اسلام کیا۔ علماء و فضلاء کی ایک بڑی جماعت نے آپ سے اکتساب فیض کیا۔ ہزاروں نے اپنی گناہ سے ملوث زندگیوں میں تبدیلیاں پیداکیں اور نیکی و پارسائی کی طرف راغب ہوئے۔ آپ کے عمل اور طرز تربیت سے،گنواروں کو تہذیب، ناعقلوں کو عقل،بے علموں کو علم، گناہ گاروں کو رغبت نیکی، تاریک عملوں کو شوق عمل اور بد کرداروں کوحسن اخلاق کی دولت نصیب ہوئی-گمراہ شخص ہدایت یافتہ ہوگیا،کامل اکمل بن گئے،ادنی اعلی ہوگئے اور اعلی بلندی کی آخری منزل کی طرف گامزن ہوئے۔
وصال وجانشینی:
حضرت مخدوم شیخ علاء الحق پنڈوی کاوصال بمطابق قول مشہور ۸۰۰ھ/۱۳۹۸ء و بمطابق قول محقق۷۸۰ھ/۸۷۳۱ء میں ہوا۔ مزار پاک پنڈوہ شریف ضلع مالدہ، مغربی بنگال میں زیارت گاہ عام ہے، ۲۲تا۴۲رجب المرجب عرس کے مراسم ادا کئے جاتے ہیں۔ آپ کے وصال کے بعد آپ کے خلیفہ غوث العالم، محبوب یزدانی سید اشرف جہانگیر سمنانی کچھوچھوی اور صاحب زادہ و جانشیں شیخ احمد نورالحق والدین معروف بہ نورقطب عالم علیہما الرحمہ نے آپ کے مشن کو آگے بڑھایا۔
ترسیل مضمون:
اشرفیہ اسلامک فاونڈیشن
حیدرآباد دکن

Wednesday, January 17, 2018

مخدوم العالم شیخ عمر علاء الحق لاہوری ثم پنڈوی بنگالی علیہ الرحمہ کی حیات و خدمات پر پہلی تحقیقی کتاب لکھنے کی اللہ عزوجل نے توفیق عطا فرمائی ۔ ماہ رجب المرجب کی ۲۲ تاریخ ۱۴۳۸ ھ کو حضرت مخدوم العالم کے عرس کے موقع پر پنڈوہ شریف مالدہ میں رسم اجراء عمل میں آیا